انوارالعلوم (جلد 18) — Page 510
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۱۰ خدا تعالیٰ دنیا کی ہدایت کیلئے ہمیشہ نبی مبعوث فرماتا ہے کی جوانی کے زمانے میں لوگ کیسے ہوتے تھے اُس نے کہا اُس زمانہ کے لوگ تو بہت اچھے ہوا کرتے تھے مگر آجکل کے لوگ بہت خراب ہو گئے ہیں۔نوجوان نے کہا کوئی بات ہی سناؤ۔بڈھے نے کہا جب میں ریل کے محکمہ میں ملازم ہوا تو اُس وقت میری تنخواہ پندرہ روپے ماہوار تھی جس میں سے میں دس روپے اپنے والدین کو بھیج دیتا تھا اور باقی پانچ میں خود گزارہ کرتا تھا اور کھدر کے کپڑے پہن لیتا اور بازار سے روٹی کھا لیا کرتا تھا۔ایک دن امرتسر کا اسٹیشن ماسٹر میرے پاس آیا جو انگریز تھا کہنے لگا کہ بابو! تم اپنے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے کپڑے کیوں پہنے ہوئے ہو کیا تم نئے نہیں سلا سکتے ؟ میں نے کہا میں اپنی تنخواہ میں سے دس روپے تو اپنے والدین کو بھیج دیتا ہوں اور باقی پانچ سے بمشکل گزارہ کرتا ہوں کپڑے کیسے بنواؤں۔اس پر وہ ٹیشن ماسٹر مجھ پر ناراض ہوا اور کہنے لگا تم تو بے وقوف ہو۔یہ ریل تو ایسی چیز ہے جیسے کوئی دریا بہ رہا ہو اور تم ہر روز اس سے دو تین روپے زائد کما سکتے ہو گویا اس سٹیشن ماسٹر نے اس شخص کو خود بد دیانتی سکھائی اور کہا اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے دریا میں سے ایک قطرہ پانی کا لے لیا جائے۔ہم نے دیکھا ہے کہ زمیندار لوگ دانے وغیرہ چھکڑوں میں لا دکر لے جاتے ہیں تو ان کے دانے رستہ میں گرتے جاتے ہیں مگر وہ ان دانوں کو گرتے دیکھ کر اس کی پرواہ تک نہیں کرتے مگر ایک غیر زمیندار شخص ان دانوں کو گرتا دیکھے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اتنے دانے گرتے جارہے ہیں۔پھر زمیندار جب گندم کی فصل کاٹتا ہے تو غرباء کو کہہ دیتا ہے کہ جو سٹے گرے ہوئے ہیں تم اُن کو چن لو۔اسی طرح وہ بڑھا کہنے لگا کہ اس وقت کے افسر بہت ہی شریف ہوتے تھے حالانکہ وہ افسر اس کو شرافت کی بات نہیں بتا رہا تھا بلکہ بددیانتی کا سبق دے رہا تھا۔مگر اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل بھی دریا کی طرح ہوتے ہیں اور دریا میں سے ایک قطرہ پانی کا لے لیا جائے تو اس میں کیا کمی آسکتی ہے مگر بندہ ہی ایسا بد قسمت ہے کہ وہ خود خدا کے انعامات سے اپنے آپ کو محروم کر لیتا ہے اور ان کی طرف سے منہ موڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور جب کوئی مامور آتا ہے تو لوگ اس کو حقیر سمجھ کر اس کا انکار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔حضرت با وانانک کے ماں باپ بھی ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور کہتے تھے کہ اس نے ہماری دُکانداری خراب کر دی ہے اور ہمارے گھر میں یہ بچہ نکما پیدا ہوا ہے۔اگر ان کے ماں