انوارالعلوم (جلد 18) — Page 499
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۹۹ زمین کی عمر بار یکی اور پیچیدگی نہ تھی۔اُس وقت کے دماغ کے لحاظ سے وہی قانون رائج ہوسکتا تھا۔جب حضرت آدم نے یہ قانون لوگوں کے سامنے پیش کیا تو کچھ کے دماغ مان گئے اور انہوں نے حضرت آدم کی پیروی کرنا منظور کر لیا وہ لوگ حضرت آدم کی اولاد بن کر آدمی کہلائے اور نہ ماننے والے جنات کہلائے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ انسانوں اور جنوں دونوں کی نسل ایک وقت دنیا میں جاری رہے گی اور اس لئے نبی کے وقت اس پر ایمان لانے یا نہ لانے سے ان کی حالت بدلتی رہے گی۔پس جب بھی کوئی نیا نبی آتا ہے کچھ لوگ اس نبی پر ایمان لا کر آدمی بن جاتے ہیں اور کچھ لوگ انکار کر کے جنوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔پس دنیا کی چھ ہزار سال کی عمر سے مراد یہ تہذیب و تمدن کا سلسلہ ہے اور اس سے آگے تفصیل کے متعلق مذہب خاموش ہے یا کم سے کم اس وقت تک ہمیں اس کی تفصیل مذہب سے معلوم نہیں ہے۔جب سے انسان کسی شریعت کا پابند ہوا وہ چھ ہزار سال کا زمانہ ہے اس سے پہلے کا انسان شریعت کا حامل نہ تھا۔پس مذہب کو اس زمانہ سے کوئی واسطہ نہیں۔سائنسدان اور علم حساب والے اور جغرافیہ والے بے شک تحقیقات کرتے رہیں کیونکہ مذہب کا تعلق تو روحانیت کے ساتھ ہے اور روحانی دنیا کے لئے مادی چیزوں کا عالم ہونا ضروری نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے مذہب میں سائنس اور جغرافیہ اور حساب نہیں سکھایا بلکہ ان کے متعلق انسان کو اختیار دے دیا کہ تم خود اپنی کوشش سے ان علوم کو حاصل کرو۔پس مذہب کے دائرہ میں ان علوم کو کوئی اہمیت حاصل نہیں یہ ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعلیٰ تعلق قائم کرنے کے لئے اعلیٰ درجہ کی فزکس یا کیمسٹری جاننا بھی ضروری ہو۔اگر یہ ہوتا تو بہت ہی محدود اشخاص اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس مصیبت میں نہیں ڈالا اور اپنا رستہ ایسا آسان کر دیا ہے کہ معمولی عقل کا انسان بھی ان عبادات پر کار بند ہو کر اور ان اخلاق کو اپنے اندر پیدا کر کے اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے جو مذہب نے سکھائے ہیں۔پس مذہب نے تو اپنے روحانی دور کی ابتدا بیان کی ہے اس سے آگے کیا تھا مذہب کو اس سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ اس سے پہلے کا دماغ شریعت کا حامل نہ تھا اس لئے یہ بحث مذہب کے دائرہ سے خارج ہے۔اگر