انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 25

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۵ تو عیش و آرام کی زندگی بسر کریں اور کچھ لوگ تکلیف اور دُکھ کی زندگی بسر کریں۔۔اسلام کا عدم مساوات کوروکنا اسلام کا اقتصادی نظام غلامی یہ امر یا در رکھنا چاہئے کہ غیر طبعی اور غیر مساوی سلوک جو دنیا میں شروع زمانہ سے چلا آتا تھا اور جسے اسلام نے قطعاً روک دیا اُس کی بڑی وجہ غلامی تھی۔آجکل کے لوگ اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکتے کہ دنیا کی اقتصادیات کا غلامی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔مگر در حقیقت غلامی اور اقتصادیات کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے غلامی کو بالکل روک دیا۔اسلام سے پہلے بلکہ ظہور اسلام کے بعد بھی دنیا کے ایک بڑے حصے میں غلامی کا طریق رائج رہا ہے۔چنانچہ آپ رومن، یونانی، مصری اور ایرانی تاریخ کو پڑھ کر دیکھ لیں آپ کو ان میں سے ہر ملک کی ترقی کی بنیاد غلامی پر رکھی ہوئی نظر آئے گی۔یہ غلام دو طرح بنائے جاتے تھے۔ایک طریق تو یہ تھا کہ ہمسایہ قو میں جن سے جنگ ہوتی تھی اُن کے افراد کو جہاں اکا دُکا نظر آئے پکڑ کر لے جاتے اور انہیں غلام بنا لیتے۔چنانچہ رومی لوگ ایرانیوں کو پکڑ کر لے جاتے اور ایرانیوں کو موقع ملتا تو وہ رومیوں کو پکڑ کر لے جاتے اور سمجھتے کہ اس طرح ہم نے دوسرے ملک کو سیاسی لحاظ سے نقصان پہنچایا ہے۔دوسرا طریق یہ تھا کہ لوگ غیر مہذب ہمسایہ اقوام کی عورتیں ، ان کے بچے پکڑ کر لے جاتے اور انہیں اپنی غلامی میں رکھتے۔اوّل الذکر جب موقع ملے اور ثانی الذکر طریق بطور دستور اُن میں جاری تھا۔بلکہ یہ طریق اٹھارویں صدی تک دینا میں رائج رہا ہے۔چنانچہ مغربی افریقہ سے لاکھوں غلام یو نا کیڈ سٹیٹس امریکہ میں لے جائے گئے جو اب تک وہاں موجود ہیں اور گو اب وہ آزاد ہو چکے ہیں مگر دو تین کروڑ باشندے اب بھی امریکہ میں ایسے موجود ہیں جو مغربی افریقہ سے بطور غلام وہاں پہنچائے گئے تھے۔متمدن اقوام کی غرض اس سے یہ ہوتی تھی کہ وہ اپنے ملک کی دولت کو بڑھا ئیں۔چنانچہ ان غلاموں سے کئی قسم کے کام لئے جاتے تھے۔کہیں اُن کو کارخانوں میں لگا دیا جاتا تھا، کہیں جہازوں کا کام اُن کے سپر د کر دیا جاتا تھا اس طرح محنت و مشقت کے سب کام جو قومی ترقی کے لئے ضروری ہوتے تھے وہ اُن غلاموں سے لئے جاتے تھے۔مثلا سستی چیزیں پیدا کرنا اور