انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 454

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۵۴ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے گھبراؤں چونکہ مجھے وفات مسیح کی بحث اچھی طرح یاد تھی میں نے وفات مسیح کے متعلق بات شروع کر دی۔میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو صرف یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور اس زمانہ میں جو مسیح موعود اور مہدی آنے والا ہے وہ اسی اُمت میں سے آئے گا۔مجھے قرآن کریم کی ان آیات میں سے جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے۔يعيسى إني مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إلي " والى آیت یا دتھی گو میں نے اس کے متعلق سارے مضمون کو اچھی طرح کھول کر بیان کیا تو وہ حیران ہو کر کہنے لگے واقعی اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں مگر یہ مولوی لوگ کیوں شور مچاتے ہیں۔میں نے کہا یہ بات تو پھر اُن مولویوں ہی سے پوچھئے۔اس پر ہماری نانی نے شور مچا دیا کہ تو بہ کرو تو بہ کرو، اس بچہ کا دماغ پہلے ہی ان باتوں کو سن کر خراب ہوا ہوا تھا تم تصدیق کر کے اسے کفر پر پکا کرتے ہو۔ہم لوگوں سے اس قسم کے کفر کے فتوے سنا کرتے تھے مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ میرے عزیز رشتہ دار اور دوسرے ملنے والے لوگ جن میں ہر طبقہ کے لوگ شامل ہیں مجھ سے ملنے آتے ہیں مگر بہت کم کج بحثی کرتے ہیں اور اب دہلی والوں میں کیا چھوٹے اور کیا بڑے، کیا وکلاء اور کیا ڈاکٹر ، کیا آفیسرز اور کیا کلرک سب کی کایا پلٹی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رویا میں دیکھا تھا کہ دہلی والوں کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں شراب جو کچھ میرے تجربہ میں آیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی والوں کے دلوں پر جو تالے لگے ہوئے تھے وہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے کھل رہے ہیں پس جماعت دہلی کو تبلیغ کی طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔جب تک تم میں سے ہر احمدی اپنے اندر ایک جنون کی سی کیفیت نہ پیدا کرے اور جب تک تم میں سے ہر احمدی دین کے کام کو خود اپنا کام نہ سمجھے تم مؤمن کامل نہیں بن سکتے۔تمہارے ذمہ قلوب کو فتح کرنے کا کام ہے اور قلوب فتح نہیں ہوا کرتے جب تک انسان دیوانہ واراس کام کے پیچھے نہ لگ جائے اور یہ نہ سمجھ لے کہ اس کام کو میں نے ہی کرنا ہے۔پس مؤمن وہی ہے جو یہ سمجھے کہ اس کام کا سرانجام دینا صرف میرے ہی ذمہ ہے۔ایک جلسہ سالانہ پر بھی میں نے کہا تھا اور اب پھر کہتا ہوں کہ سب مؤمن یہ عہد کر لیں کہ وہ چھوٹا محمد