انوارالعلوم (جلد 18) — Page 453
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۵۳ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے اس کا مطلب جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ صداقتیں تو پہلے سے موجود تھیں مگر لوگوں نے ان پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مثیل اور بروز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے پہلے مسلمانوں کے پاس ہر قسم کی مکمل ہدایات موجود تھیں مگر انہوں نے بدقسمتی سے ان چیزوں کو استعمال نہ کیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بروز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تو آپ نے انہی چیزوں سے دنیا کے نقشہ کو بدل دیا۔چنانچہ دیکھو قرآن کریم سینکڑوں سال سے مسلمانوں میں موجو دتھا مگر ان لوگوں نے اس کو غور وفکر اور تدبر سے نہ پڑھا اس لئے ان کو کوئی فائدہ نہ پہنچ سکا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اسی قرآن کریم کو دنیا کے سامنے پیش کیا تو ایسے اعلیٰ مطالب بیان کئے کہ آج دنیا ان کو سن کر سر دھنتی ہے اور کہتی ہے کہ قرآن کریم میں کس قدر کمالات ہیں اور کس قدر حقائق و معارف ہیں۔اس علاقہ کی خوش قسمتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا رسول ان میں خود آیا ظاہر میں ہو یا خواب میں بہر حال یہ تو ایک واضح امر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں ایک عظیم الشان انقلاب رونما ہوا۔اس کے بعد میں جماعت کو بعض اور اہم فرائض کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جن میں سے پہلا یہ ہے کہ تبلیغ پر خاص طور پر زور دیا جائے۔اس دفعہ یہاں دہلی میں میرے لئے ایک حیرت انگیز بات یہ ہوئی ہے کہ اب دلی والوں نے کج بحثی کو چھوڑ دیا ہے ورنہ اس سے پہلے جب کبھی مجھے یہاں آنے کا اتفاق ہوا دہلی کے ہر قسم کے لوگ مجھ سے ملنے کے لئے آیا کرتے تھے اور عجیب عجیب قسم کی بحث شروع کر دیا کرتے تھے اور کسی نے بھی کبھی کوئی معقول بات نہ کی تھی۔مجھے یاد ہے میں اُس وقت چھوٹا سا تھا میں یہاں آیا اور اپنے رشتہ داروں کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا حیدر آباد کے ایک رشتہ کے بھائی بھی ہماری رشتے کی اس نانی کے پاس ملنے آئے تھے جن کے پاس حضرت اماں جان ٹھہری ہوئی تھیں انہوں نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہ لڑکا کون ہے؟ نانی نے کہا کہ فلاں کا لڑکا ہے یعنی حضرت اماں جان کا نام لیا۔حضرت اماں جان کا نام سن کر وہ مجھے کہنے لگے تمہارے ابا نے کیا شور مچا رکھا ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے خلاف کئی قسم کی باتیں کرتے ہیں۔اُس وقت میری عمر چھوٹی تھی مگر بجائے اس کے کہ میں