انوارالعلوم (جلد 18) — Page 452
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۵۲ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے - چکر لگاتی ہے ۔ میں کبھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا ایک پہلو بیان کرتا ہوں کبھی دوسرا پہلو بیان کرتا ہوں ، کبھی تیسرا پہلو بیان کرتا ہوں ، غرض ساری رات سونے سے اُٹھنے تک بار بار یہی نظارہ آنکھوں کے سامنے آتا رہا مگر ہر دفعہ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ العلمین کے الفاظ بے اختیار میری زبان پر جاری ہو جاتے۔ میں سمجھتا ہوں اس میں مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ جب تک ہماری جماعت کا ہر آدمی چھوٹا ( علی وٹا محمد ا نہیں بن جاتا اسلام ترقی نہیں کر سکتا اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر ہماری جماعت ترقی کرنا چاہتی ہے تو اسے اِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کا نمونہ صلى الله ۔ بننا پڑے گا ۔ دوسری مبارک رویا میں مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی میں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سامنے ایک نوجوان کی شکل میں موجود ہیں سر کے بال لمبے لمبے ہیں جیسا کہ حدیثوں میں ذکر آتا ہے اور سر پر چھوٹی سی پگڑی ہے جیسا کہ عربوں اور پٹھانوں میں عام طور پر رواج ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نو جوان نظر آتے ہیں اور نہایت خوبصورت ہیں آپ کا رنگ سفید ہے جب یہ نظارہ میں نے دیکھا تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر زندہ ہیں اور مدینہ میں ان کی خلافت ہے اور جہاں میں کھڑا ہوں وہ جگہ مکہ ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ مشکلات پیش آئی تھیں اور آپ مشورہ لینے کے لئے مدینہ تشریف لے گئے تھے۔ تھے حضرت ابو بکر سے مشورہ کرنے کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فوراً ہی تمام مشکلات کو دور کر دیا۔ چنانچہ میں اسی مضمون پر لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہوں ۔ حضور علیہ السلام میرے سامنے کچھ دور کھڑے ہیں میں آپ کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہوں کہ دیکھو وہ بات جو حضرت ابو بکر گوسالوں سے معلوم تھی اور ان کے ذہن میں تیس پینتیس سال سے موجود تھی اس سے انہوں نے وہ نتیجہ نہ نکالا لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو بکر سے مشورہ کیا اور باتوں باتوں میں وہ بات حضرت ابو بکر نے آپ سے بیان کی تو آپ نے فوراً اس بات سے ایک عظیم الشان نتیجہ نکال لیا اور اس پر عمل کر کے سب مشکلات کو دور کر لیا۔