انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 450

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۵۰ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے میں انگریز اتنے نہیں جتنی ہماری جماعت ہے مگر انگریز صرف تنظیم کر کے اپنے آپ کو بڑا بنا لیتے ہیں۔اس وقت انگلستان تمام دنیا پر حکومت کر رہا ہے اور تجارت اس کے ہاتھ میں ہے، دولت اس کے ہاتھ میں ہے اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ انہوں نے شروع میں تنظیم کے ماتحت قربانیاں کیں۔جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستان میں آئی اس وقت انگلستان کے لوگوں کی تنخواہیں نہایت قلیل ہوا کرتی تھیں پانچ یا چھ شلنگ ماہوار تنخواہ کارکنوں کو ملتی تھی جو چار چار یا تین تین روپے کے برا برا ہوتی تھی کیونکہ ایک شلنگ کی قیمت کا اندازہ اگر دس آنے کیا جائے تو چھ شلنگ کی قیمت پونے چار روپے بنتی ہے اور پانچ شلنگ کی قیمت تین روپے سے تھوڑی زیادہ بنتی ہے، ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام کے ابتدائی حالات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت انگلستان کے لوگوں کی یہ حالت ہوتی تھی کہ ان میں سے اکثر کے پاس پورے کپڑے تک نہ ہوتے تھے مگر ان لوگوں نے باہر نکل کر دنیا سے تجارت کرنے کا فیصلہ کر لیا اور ہر شخص نے اپنا پیٹ کاٹ کر ایسٹ انڈیا کمپنی میں حصہ لینا شروع کر دیا۔لوگ ان پر طرح طرح کے آوازے کہتے تھے مگر وہ ایک کان سے سنتے اور دوسرے کان سے نکال دیتے۔جس طرح کھیت میں بیج ڈالنے والے کو اس کے ضائع ہونے کا احتمال نہیں ہوتا اسی طرح اگر کسی شخص کے پاس دس پندرہ روپے ہوں اور وہ انہیں تجارت میں نہیں لگاتا اور اسے محفوظ کر کے کہیں رکھ دیتا ہے یا زمین میں دبا دیتا ہے تو یقیناً اس کا یہ سرمایہ ضائع تو نہ ہوگا مگر اس سرمایہ سے اس کو کو ئی نفع نہیں پہنچ سکے گا اگر وہ اس روپے کو تجارت یا کسی اور کام میں لگا دے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اپنے اخراجات بھی اس سرمایہ سے چلتے رہیں گے اور وہ روپیہ بھی اپنی اصلی حالت میں موجودرہے گا اور اگر اس نے وہ روپے تجارت میں نہیں لگائے ہوں گے تو ان کے ضائع ہو جانے یا چوری ہو جانے کا بھی اندیشہ رہے گا یا اگر وہ شخص مسلمان ہے اور اسلام کے احکام کی پابندی کرتا ہے تو اگر وہ اس روپیہ میں سے صدقہ و خیرات یا ز کوۃ دیتا رہے گا تو وہ روپیہ خرچ ہو جائے گا اور اگر وہ پکا مسلمان نہیں اور زکوۃ وصدقات وغیرہ نہیں دیتا تو وہ روپیہ اس کو دوزخ میں لے جائے گا۔اگر شریعت پر عمل کرتا ہے اور زکوۃ دیتا ہے تو بھی اور اگر شریعت پر عمل نہ کر کے زکوۃ نہیں دیتا تو بھی وہ ور پیہ خرچ ضرور ہو جائے گا اس کے محفوظ رکھنے اور اس سے منافع اُٹھانے کا