انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 449

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۴۹ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی چالیس پچاس سال تک وہاں کے گورنر ر ہے مگر انہی لوگوں میں سے جو آپ سے پہلے ہر گورنر کے ساتھ شرارت کرتے رہے اور ہر گورنر کے خلاف شکایات بھیجا کرتے تھے کسی ایک کو بھی اس قسم کی جرات نہ ہوئی اور وہ لوگ کبھی شرارت کے لئے نہ اُٹھے اور سارے کوفہ پر حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کا ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ حکومت یا انتظام کے اندر کسی قسم کی رخنہ اندازی نہ کر سکے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ چیزیں ایک بہت بڑے تعلق اور عشق کے نتیجہ میں ملتی ہیں۔جو شخص خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے اور اپنا سب کچھ اس کی راہ میں قربان کر دیتا ہے اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ نور اور روشنی عطا ہوتی ہے جس کو پا کر انسان کے اندر ہمت اور حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ دنیا کی کسی طاقت سے خائف نہیں ہوتا۔جس کے متعلق حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی نے کہا تھا کہ میری عمر اسامہ کی عمر سے ایک سال بڑی ہے یہ وہ اسامہ تھا جس نے روما کی سلطنت کو تہہ وبالا کر دیا تھا ، کفار کے لشکر کے پر خچے اڑا دیئے تھے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان انگلستان سے اڑھائی گنا ہیں ، اٹلی سے اڑھائی گنا ہیں ، سپین سے اڑھائی گنا ہیں ، فرانس سے اڑھائی گنا ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم امریکہ کے تقریباً برابر ہیں تو دل میں تھوڑا بہت حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے مگر جب ہم مسلمانوں کی تنظیم کو دیکھتے ہیں تو خون جوش مارنے لگتا ہے کہ ہم کیا تھے اور کیا ہو گئے۔مسلمانوں کی پے در پے غلطیاں انہیں دن بدن نیچے کو لئے جارہی ہیں وہ خود ہی اپنے آپ کو مُردہ تصور کر رہے ہیں مگر یا درکھنا چاہئے کہ مسلمان اتنے مرے ہوئے نہیں جتنا کہ وہ سمجھتے ہیں۔اگر وہ اب بھی اپنے اندر بیداری پیدا کر لیں ، اگر اب بھی وہ اپنے آپ کو شناخت کر لیں ، اگر اب بھی وہ خدا تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری کرنا شروع کر دیں، اگر اب بھی وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو جائیں اور اگر اب بھی وہ اپنے آپ کو مُردہ نہیں بلکہ زندہ سمجھنے لگ جائیں تو ہندوستان تو ہندوستان رہا دنیا کی کوئی طاقت اور دنیا کی کوئی قوم ان کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی۔مسلمانوں کو اس قدر ذلت اس لئے نصیب ہوئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کے احکام سے پہلو تہی اختیار کی۔ہماری جماعت کو تھوڑے ہو کر بھی اپنے آپ کو زیادہ سمجھنا چاہئے ، اس وقت ہندوستان