انوارالعلوم (جلد 18) — Page 24
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۴ اسلام کا اقتصادی نظام جب وہ یہ سب کچھ کر چکتا تو ہم اُس سے یہ امید رکھتے کہ وہ یہ نہ کہتا کہ میں نے فلاں غریب کی پرورش کی ، میں نے فلاں مسکین کی خبر گیری کی، بلکہ وہ خدا کے حضور نہایت عجز اور انکسار کے ساتھ یہ عرض کرتا کہ اے میرے رب ! میں نے تیرے حکم کو پورا کرنے کی کس قدر کوشش کی ہے۔مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اس حکم کو صحیح طور پر ادا بھی کیا ہے یا نہیں۔گویا بجائے احسان جتانے کے تم مومن بنتے اور سمجھتے کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے کسی پر احسان نہیں کیا۔اپنے مہربان آقا کے حکم کو پورا کیا ہے اور وہ بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اس کے عائد کردہ فرض کو صحیح طور پر ادا بھی کیا ہے یا نہیں و تواصوا بالصبر پھر اس سے بھی ترقی کر کے تم ملک کی مصیبتوں کے اپنے آپ کو ذمہ دار بناتے۔یہی نہیں کہ خود تو عیش و آرام کی زندگی بسر کرتے اور غرباء تکالیف میں دن گزار دیتے۔جیسے آج کل کنٹرول کی وجہ سے امراء تو چیزیں لے جاتے ہیں مگر غرباء رہ جاتے ہیں۔اور پھر یہی نہیں کہ تم قربانی کر کے غرباء کی مدد کرتے بلکہ اس سے بڑھ کر ہم تم سے یہ امید کرتے تھے کہ تم اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو بھی اس راہ پر چلانے کی کوشش کرتے اور تمام کے تمام افراد ملک مل کر ملک کی بہتری کی کوشش کرتے اور ایک دوسرے کو سہارا دیتے۔پھر فرماتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ ہم یہ چاہتے تھے کہ تواصَوْا بِالمَرْحَمَةِ یعنی سب نیکیاں کر کے پھر بھی سمجھتے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا اور ایک دوسرے کو نصیحت کرتے رہتے کہ اور زیادہ غریبوں اور کمزوروں پر رحم کرو اور اُن سے محبت کرو اور یہ نصیحت مرتے دم تک جاری رہتی۔یہ اسلام کے بالکل ابتدائی زمانہ کی تعلیم ہے جب قرآن کریم کے نزول کا ابھی آغاز ہی ہوا تھا ، جب تفصیلی احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابھی نازل نہیں ہوئے تھے اور جب مکہ والے بھی ابھی اسلام سے پورے طور پر واقف نہیں ہوئے تھے۔سرمیور کے نزدیک رسول کریم ہے کے یہ وہ ابتدائی خیالات ہیں جن سے متاثر ہو کر آپ نے نَعُوذُ بِاللہ نبوت کا دعوی کیا اور ہمارے نزدیک یہ وہ ابتدائی الہامات ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے اقرا کا حکم ہوا تھا کہ جاؤ اور لوگوں کو ان کا قائل بناؤ۔بہر حال اسلام کی بنیاد کے وقت کی یہ تعلیم صاف طور پر بتا رہی ہے کہ اسلام نے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ جہاں اسلام فرد کی آزادی اور اُس کی شخصی ترقی کے لئے جد و جہد کو جائز رکھتا ہے وہاں وہ اس امر کی بھی اجازت نہیں دے سکتا کہ کچھ لوگ