انوارالعلوم (جلد 18) — Page 433
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۳۳ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے ہو گا حقیقی امن پیدا نہیں ہوسکتا۔پہلی لیگ آف نیشنز بھی ناکام رہی اور اب دوسری لیگ آف نیشنز بھی ناکام رہے گی۔پس ضروری ہے کہ دنیا اسلام کے اصولوں کو اپنائے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرے کیونکہ جب تک یہ پارٹی سسٹم جاری ہے اور جب تک یہ امتیاز باقی ہے کہ یہ چھوٹی قوم ہے اور وہ بڑی قوم ہے اور یہ کمز ور حکومت ہے اور وہ طاقتور حکومت ہے اُس وقت تک دنیا کے امن کے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتے۔پس ضروری ہے کہ اس امتیاز کو دلوں سے مٹایا جائے جب تک یہ چیز باقی رہے گی کہ یہ بڑی جان ہے اور یہ چھوٹی جان ہے اُس وقت تک دنیا امن و چین کا سانس نہیں لے سکتی۔کشمیر ایجی ٹیشن کے موقع کا ایک عجیب لطیفہ مجھے یاد ہے کشمیر ایجی ٹیشن کے موقع پر پرائم منسٹر لالہ ہری کرشن صاحب مجھے ملنے کے لئے آئے۔اُن دنوں کوئی سپاہی مارا گیا تھا اس کے بدلے حکومت نے چار آدمیوں کو پکڑ لیا کشمیر کا ایک لیڈر مجھ سے ملنے کے لئے آیا تو اُس نے ذکر کیا کہ یہ کتنا ظلم ہے کہ ایک آدمی کے بدلے میں چار آدمی پکڑ لئے ہیں۔میں نے ہری کرشن صاحب سے کہا یہ کیا ظلم ہے کہ آپ کا ایک سپاہی مارا گیا ہے اور آپ نے چار آدمیوں کو پکڑ لیا ہے سزا صرف اسی شخص کو ملنی چاہیئے جس نے اسے قتل کیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کسی شخص کے قتل میں دس آدمی شریک ہوں تو دسوں ہی ذمہ دار ہوں گے لیکن اُس سپاہی کو ایک آدمی نے ہی مارا تھا۔میری بات سن کر وہ کہنے لگے ایک کے بدلے میں ایک ہی مارا جائے یہ کس طرح ہو سکتا ہے اس طرح تو حکومت کی بے عزتی ہے۔گویا ان کے نزدیک سپاہی کی جان عام جانوں سے بہت بڑی تھی۔پس لیگ آف نیشنز تبھی کامیاب ہوسکتی ہے جب وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق بنائی جائے اور اسلام کے حکموں کے مطابق کام کرے۔لیگ آف نیشنز کے بعد اگر دنیا امن حاصل کرنا چاہے تو اسے مندرجہ ذیل چار چیزوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اگر یہ چیزیں اکٹھی کر دی جائیں تو وہ دنیا میں ایک حکومت کے قائم مقام ہو سکتی ہے۔(۱) سکہ اور ایکسچینج (۲) تجارتی تعلقات (۳) بین الااقوامی قضاء