انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 432

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۳۲ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے کہ میرا حق ہے کہ میں تمہیں گالیاں دے لوں یا تمہارے منہ پر تھپڑ مارلوں کیونکہ میں سات فٹ کا ہوں اور تم چارفٹ کے ہو تو کیا کوئی حکومت اسے جائز سمجھے گی؟ وہ کہے گی کہ جیسا دماغ سات فٹ والے کا ہے ویسا ہی دماغ چارفٹ والے کا ہے اور جو حقوق سات فٹ والے کے ہیں وہی حقوق چارفٹ والے کے ہیں لیکن جب آزادی اور حریت کا سوال آتا ہے تو چھوٹے ملکوں اور بڑے ملکوں میں امتیاز کیا جاتا ہے اور چھوٹے ملکوں کے لئے حریت ضروری نہیں خیال کی جاتی حالانکہ آزادی کی ضرورت جیسے بڑی حکومتوں کو ہے ویسی ہی ضرورت چھوٹی حکومتوں کو ہے۔اسلام کہتا ہے کہ صلح کرتے وقت کسی کی آزادی کو سلب نہ کرو اور صلح کرانے کی وجہ سے کوئی مطالبہ پیش نہ کرو کیونکہ تمہارا لڑائی میں شامل ہو تا امن کو بحال کرنے کے لئے تھا اس لئے تم کسی حکومت سے کوئی مطالبہ نہیں کر سکتے۔فرض کرو ہالینڈ کو بچانے کے لئے امریکہ اور انگلستان کوشش کریں تو کیا اس سے امریکہ اور انگلستان کا اپنا بھلا نہ ہوگا کیونکہ اگر فساد ہوگا تو انگلستان اور امریکہ بھی اس کی لپیٹ سے بچ نہیں سکیں گے اور جب بھی لڑائی چھڑے گی تو زیادہ نقصان ان ہی دو حکومتوں کو ہوگا جن کی آبادی زیادہ ہوگی ، جن کے مقبوضات زیادہ ہوں گے پس وہ اس لحاظ سے دوسروں سے زیادہ امن کی محتاج ہیں۔اگر فساد ہو اور لڑائی ہو تو ہالینڈ کی نسبت امریکہ کا زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ امریکہ کی آبادی چودہ کروڑ کی ہے اور ہالینڈ کی آبادی کل اتنی لاکھ کی ہے اور اسی لاکھ کی نسبت چودہ کروڑ کی حفاظت اور امن زیادہ ضروری ہوتا ہے اور اگر نقصان ہو تو چودہ کروڑ کا حصہ اسی لاکھ کی نسبت بہر حال زیادہ ہو گا۔پس جس طرح چار کروڑ کی آبادی رکھنے والے فرانس کو امن کی ضرورت ہے، جس طرح ۴۵ لاکھ کی آبادی رکھنے والے بیلجیئم کو امن کی ضرورت ہے اسی طرح ان بڑی حکومتوں کو بھی امن کی ضرورت ہے پس اسلام کہتا ہے کہ ان چار چیزوں کے بغیر امن نہیں ہوسکتا۔اول لیگ کے پاس فوجی طاقت ہو۔دوم عدل و انصاف کے ساتھ آپس میں صلح کرائی جائے۔سوم جو نہ مانے اس کے خلاف سارے مل کر لڑائی کریں۔چہارم اور جب صلح ہو جائے تو صلح کرانے والے ذاتی فائدہ نہ اٹھائیں۔یہ چار اصول لیگ آف نیشنز کے قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں جب تک ان پر عمل نہیں