انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 404

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۰۴ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین کہو کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔آپ نے یہ فقرہ کہہ کر اُن لوگوں پر واضح کر دیا کہ خاتم النبیں کے یہ معنی نہیں کہ آپ کے بعد نبی نہیں آسکتا۔حضرت عائشہ نے اس خطرہ کو محسوس کیا کہ لوگ اس غلطی میں مبتلا نہ ہو جائیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا کیونکہ آپ یہ جانتی تھیں کہ خود رسول کریم ﷺ نے اپنے بعد ایک نبی کے آنے کی پیشگوئی فرمائی ہے اور قرآن کریم میں آپ کے متعلق یہ پیشگوئی ہے کہ آپ کی بعثت دوبارہ ہوگی اور آپ یہ بھی جانتی تھیں کہ مُردے دوبارہ زندہ نہیں ہوتے اور آپ کی اس بعثت سے مراد آپ کا بروز ہے۔حضرت عائشہ اس بات کو سمجھ گئیں لیکن بعض دوسرے جلیل القدر صحابہ اُس بات کو نہ سمجھ سکے۔بے شک حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول بھی اس قسم کا ہے لیکن حضرت عائشہ کا قول سب سے زیادہ زور دار ہے۔حضرت علیؓ کے بیٹوں حسن اور حسین کو ایک شخص پڑھایا کرتا تھا حضرت علیؓ ایک دفعہ اپنے بچوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے سنا کہ آپ کے بچوں کو اُن کا اُستاد خاتم النبيين پڑھا رہا تھا حضرت علیؓ نے فرمایا میرے بچوں کو خاتم النبيين نہ پڑھاؤ بلکہ خَاتَمَ النَّبيين پڑھایا کرو۔یعنی بے شک یہ دونوں قراء تیں ہیں لیکن میں خاتم النبیین کی قراءت کو زیادہ پسند کرتا ہوں کیونکہ خاتم النبیین کے معنی ہیں نبیوں کی مُہر اور خاتم النبیین کے معنی ہیں نبیوں کو ختم کرنے والا ، میرے بچوں کو تا کی زبر سے پڑھایا کرو۔اس آج ہر مسلمان خواہ وہ عالم ہو یا جاہل ہو احمدیوں کے سوا یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا لیکن آج سے تیرہ سو سال قبل حضرت عائشہ نے اس غلطی کو تاڑ لیا اور بہت زور دار لفظوں میں اس کی تردید کی۔کتنا عظیم الشان حل ہے جو حضرت عائشہ نے پیش کیا۔اسی قسم کی اور بہت سی مثالیں ہیں اور بہت مواقع ہیں جن میں عورتیں مردوں پر سبقت لے گئیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر جنگ کے لئے بھیجا اور اس کا سردار حضرت زید کو بنایا۔حضرت زید رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام تھے جن کو آپ نے آزاد کر دیا تھا، آزاد ہونے کے بعد حضرت زیڈ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ چھوڑنا پسند نہ کیا ، حضرت زید کے چچا اور ان کے والد ان کو لینے کے لئے آئے ، اُنہوں