انوارالعلوم (جلد 18) — Page 401
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۰۱ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین کمزور نگاہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر پھیل کر رہ گئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بی بی! مجھے افسوس ہے تمہارا جوان بیٹا اس جنگ میں شہید ہو گیا ہے۔بڑھاپے میں کوئی شخص ایسی خبر سنتا ہے تو اس کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں لیکن اس بڑھیا نے کیسا محبت بھرا جواب دیا کہ یا رَسُولَ اللہ ! آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں مجھے تو آپ کی خیریت کا فکر تھا۔۱۷ یہی وہ عورتیں تھیں جو اسلام کی اشاعت اور تبلیغ میں مردوں کے دوش بدوش چلتی تھیں اور یہی وہ عورتیں تھیں جن کی قربانیوں پر اسلامی دنیا فخر کرتی ہے۔تمہارا بھی دعوی ہے کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائی ہو اور حضرت مسیح موعود رسول کریم کے بروز ہیں گو یا دوسرے لفظوں میں تم صحابیات کی بروز ہو لیکن تم صحیح طور پر بتاؤ کہ کیا تمہارے اندر دین کا وہی جذبہ موجزن ہے جو صحابیات میں تھا ، کیا تمہارے اندر وہی نور موجود ہے جو صحابیات میں تھا، کیا تمہاری اولادیں ویسی ہی نیک ہیں جیسی صحابیات کی تھیں؟ اگر تم غور کرو گی تو تم اپنے آپ کو صحابیات سے بہت پیچھے پاؤ گی۔صحابیات نے جو قربانیاں کیں آج تک دنیا کے پر دے پر اس کی مثال نہیں ملتی۔ان کی قربانیاں جو انہوں نے اپنی جان پر کھیل کر کیں اللہ تعالیٰ کو ایسی پیاری لگیں کہ اللہ تعالیٰ نے بہت جلد اُن کو کامیابی عطا کی اور دوسری قومیں جس کام کو صدیوں میں نہ کر سکیں ان کو صحابہ اور صحابیات نے چند سالوں کے اندر کر کے دکھا دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے جب مدینہ پہنچے اس وقت آپ تنہا تھے آپ ایک بے کس اور بے بس وجود تھے لیکن ابھی آٹھ سال نہیں گزرے تھے کہ آپ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے۔آٹھ سال کے اندر اندر مردوں اور عورتوں نے ایسے رنگ میں قربانیاں کیں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ان کیلئے جوش میں آیا اور ان پر کامیابی کے دروازے کھول دیئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت تمام عرب میں اسلام پھیل چکا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابیات ہر قربانی پر آپ سے یہ عرض کرتی تھیں کہ يَا رَسُولَ اللہ ! کیا ان قربانیوں میں ہمارا حصہ نہیں ؟ مرد ہر میدان میں قربانیوں کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں لیکن ہم جہاد وغیرہ میں حصہ نہیں لے سکتیں آپ ہمیں کیوں اس میں حصہ نہیں لینے دیتے۔۱۸