انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 400

انوارالعلوم جلد ۱۸ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین کہتی مَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کیا کیا۔یہ فقرہ خالص طور پر عورتوں کا فقرہ ہے کوئی مرد اپنے پاس سے یہ فقرہ نہیں بنا سکتا کیونکہ جب کسی عورت کا بچہ یا اُس کا خاوند فوت ہو جائے تو وہ کہتی ہے ارے تم نے یہ کیا کیا تم ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔پس یہ فقرہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کیا کیا، ایک زنانہ آواز ہے اور کوئی مؤرخ ایسا جھوٹا فقرہ نہیں بنا سکتا کیونکہ عورتوں کے سوا یہ فقرہ کسی اور کے منہ سے نہیں نکل سکتا وہ عورت یہ کہتی جاتی تھی کہ ہائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کیا کیا کہ آپ شہید ہو گئے اور ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔اسے صحابی کے بتا دینے پر بھی تسلی نہ ہوئی اور اصرار کیا کہ تم مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے چلو۔جب اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نظر آئے تو وہ بھاگتی ہوئی آپ کے پاس پہنچی اور آپ کا دامن پکڑ لیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بی بی ! مجھے افسوس ہے کہ تیرا باپ اور تیرا بھائی اور تیرا خاوندلڑائی میں مارے گئے۔اُس عورت نے جواب دیا جب آپ زندہ ہیں تو مجھے کسی اور کی موت کی پرواہ نہیں۔۱۶ یہ وہ عشق تھا جوان عورتوں کو پروانہ وار قربانیوں کے میدان میں کھینچے لئے آتا تھا جو عہد انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا اس کو سچا کر دکھایا۔جنگ سے واپسی پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کی باگ حضرت سعد بن معاڈ پکڑے ہوئے فخر سے چلے آ رہے تھے جنگ میں آپ کا بھائی بھی مارا گیا تھا مدینہ کے قریب پہنچ کر حضرت سعد نے اپنی ماں کو آتے ہوئے دیکھا اور کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! میری ماں آ رہی ہے حضرت سعد کی والدہ کی عمر اسی بیاسی سال کی تھی ، آنکھوں کا نور جا چکا تھا ، دھوپ چھاؤں مشکل سے نظر آتی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر وہ بڑھیا بھی لڑکھڑاتی ہوئی مدینہ سے باہر نکلی جا رہی تھی۔حضرت سعد نے کہا يَارَسُولَ الله ! میری ماں آ رہی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری سواری کو ٹھہرا لو۔جب آپ اس بوڑھی عورت کے قریب آئے تو اُس نے اپنے بیٹوں کے متعلق کوئی خبر نہیں پوچھی ، پوچھا تو یہ پوچھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہاں ہیں ؟ حضرت سعد نے جواب دیا آپ کے سامنے ہیں اس بوڑھی عورت نے او پر نظر اُٹھائی اور اس کی