انوارالعلوم (جلد 18) — Page 398
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۹۸ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین دوسرے سرے تک گونج گئی۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کا اسلام لا نا ایک عورت کی تبلیغ اور قربانی کے نتیجہ میں تھا اور جو جو کام حضرت عمرؓ نے اسلام لانے کے بعد کئے ان میں حضرت عمرؓ کی بہن برابر کی شریک تھیں کہ آپ کے اسلام لانے کا وہی موجب ہوئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہجرت کی تحریک کرنے کے لئے جو وفد مدینے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اُس وفد میں ایک عورت بھی تھی جو اصرار کے ساتھ اس وفد میں شامل ہوئی تھی یہ وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کے ایک بجے ملا اُس وقت بھی وہ عورت اس وفد کے ساتھ تھی۔اس وفد نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ خواہش ظاہر کی کہ آپ جب بھی ہجرت کریں تو مدینہ تشریف لائیں۔یہ عورت اس جوش اور اخلاص کی مالک تھی کہ ہمیشہ جہاد میں حصہ لیتی اور اپنی اولاد کی اس طرح تربیت کی کہ وہ اسلام کے جانثار سپاہی ثابت ہوئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کا ارادہ کیا اُس وقت بھی آپ کی ہجرت میں ایک عورت نے خاص طور پر حصہ لیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے مکہ سے روانگی کے وقت آخری کھانا حضرت عائشہ کی بڑی بہن اسماء نے بنایا اُس زمانے میں کپڑے بہت کم ہوتے تھے عورتوں کے پاس ایک ہی بڑی سی چادر ہوتی تھی جس کو وہ ساڑھی کی طرح اپنے اردگرد لپیٹ لیتی تھیں بہت سے مردوں کو ایسی چادر بھی نہیں ملتی تھی وہ صرف تہہ بند ہی باندھتے تھے حضرت اسماء جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا باندھنے لگیں تو انہیں کوئی کپڑا نہ ملا انہوں نے اپنی ساڑھی سے ہی ایک ٹکڑا پھاڑ کر اس میں کھانا باندھا اور ساڑھی کے پھٹ جانے کی وجہ سے جہاں سے کپڑا پھاڑا تھا وہاں دو ٹکڑے ہو گئے وہ ایک ٹکڑے کو کمر کے گرد لپیٹ لیا کرتی تھیں اس وجہ سے ان کا نام ذَاتُ النَّطَاقَتَيْنِ پڑ گیا " عام طور پر ایسی پھٹی ہوئی ساڑھی لونڈیاں باندھتی تھیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایک موقع پر عبد اللہ بن زبیر کو کسی شخص نے کہا کہ وہ ذَاتُ النَّطَاقَتَيْنِ کے بیٹے ہیں یعنی ایک لونڈی کے۔ایک صحابی نے جب یہ سنا تو اُس نے کہا تمہیں یہ طعنہ دیتے ہوئے خیال نہیں آیا کہ اس کی ماں کو ذَاتُ النَّطَاقَتَینِ کیوں کہا جاتا تھا؟ جس لباس کے نام کی وجہ سے تم اسے لونڈی کا طعنہ دیتے ہو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنی ساڑھی