انوارالعلوم (جلد 18) — Page 397
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۹۷ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین اُٹھے اور بہن سے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کہاں رہتے ہیں؟ بہن بھائی کو محبت کی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی اور اس کے دل سے دعائیں نکل رہی تھیں کہ کاش ! میری ماں کا جایا دوزخ سے نجات پائے اتنے میں کان میں آواز آئی بہن! محمد کہاں رہتے ہیں؟ بھائی کی محبت کو اس آواز نے ہوا میں اُڑا دیا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اب پورے جوش سے اس کے دل کے فوارہ سے پھوٹنے لگی۔ اس نے سوچا اگر عمر کا یہ جوش عارضی ہوا، اگر اس کے دل میں بد نیتی کے خیال پوشیدہ ہوں ، اگر اس نے میرے محبوب محمد کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہو تو پھر میں کیا کروں گی؟ اُس نے عمر کے اسلام کے خیال کو دماغ کے پچھلے خلیوں میں دھکیل دیا اور محمد رسول اللہ کی محبت کے جوش سے متوالی ہو کر عمر کا گریبان پکڑ لیا اور اس دیوانگی سے جسے محبت کے سوا اور کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتی چلائی خدا کی قسم ! میں تم کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جانے دونگی پہلے تم قسم کھاؤ کہ تم کسی بدا رادہ سے نہیں جا رہے۔ عمر نے بہن کی طرف مسکین نگاہوں سے دیکھا جس طرح مرغ بسمل ذبح کے وقت دیکھتا ہے اور کہا بہن ! میں مسلمان ہونے جا رہا ہوں ۔ یہ کا ہوں ۔ یہ کلام کیا تھا مر دہ بہن کو زندہ کرنے والا تھا۔ اس نے عمر نے عمر کا گریبان چھوڑ دیا اور اپنے خدا کا شکریہ ادا کیا جس نے بچھڑے ہوئے بھائی کو پھر سے بہن کو ملا دیا۔ جس نے خطاب کے گھرانہ کی دوزخ کو جنت سے بدل دیا اور کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اُم ہانی کے گھر پر ہیں اور عمر خاموشی سے اس گھر کی طرف چل پڑے۔ جب آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ الہ وس وسلم کے مکان پر پہنچے اور دستک دی دی تو تو صحار صحابہؓ نے دروازوں روں کی کی دراڑوں و میں سے دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ باہر عمر تلوار لئے کھڑے دستک دے رہے ہیں اور مشورہ دیا کہ اس وقت دروازہ کھولنا مناسب نہ ہوگا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں تم دروازہ کھول دو۔ حضرت عمر اسی طرح تلوار لئے اندر داخل ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور عمر کا گریبان پکڑ کر کھینچا اور فرمایا عمر ! تمہارے بدارا دے ابھی تک بدلے نہیں ؟ حضرت عمرؓ نے آنکھیں نیچی کر لیں اور کہا یا رَسُولَ اللہ ! میں کسی بدارادے سے نہیں آیا بلکہ آپ کے غلاموں میں شامل ہونے آیا ہوں ۔ ان کلمات کا سننا تھا کہ مسلمانوں نے جوش سے اللهُ أَكْبَرُ کا نعرہ بلند کیا جس سے مکہ کی فضا ایک سرے سے