انوارالعلوم (جلد 18) — Page 396
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۳۹۶ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین بے شک مارلو۔عمر کا ہاتھ بلند ہو چکا تھا اور زور سے گھوم کر نیچے کی طرف آ رہا تھا اب اُس ہاتھ کو روکنا خود عمر کے اختیار میں بھی نہ تھا چنانچہ بازو زور سے جنبش کھا کر نیچے گرا اور حضرت عمرؓ کی بہن کے منہ پر اس زناٹے سے آکر لگا کہ کمرہ گونج گیا۔حضرت عمرؓ کی بہن کے ناک سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا اور وہ عمر جو ا بھی اپنے بہنوئی کو مار مار کر زمین پر لٹا دینے کے لئے تیار ہو رہا تھا حیرت زدہ ہو کر اس نظارہ کو دیکھنے لگا وہ لاکھ ظالم تھا، کا فر تھا مگر عرب کے ایک شریف خاندان کا چشم و چراغ تھا اُس کی ہمت اور اُس کی بہادری کی عمارت متنر لزل ہوگئی اچانک اپنے آپ کو ایک مجرم کی حیثیت میں کھڑا پایا اُس نے ایک عورت پر ہاتھ اُٹھایا تھا وہ اپنی بہن کے خون بہانے کا مجرم تھا جس کی حفاظت اس کا اولین فرض تھا اس گھبراہٹ میں عمرہ کو اس کے سوا اور کچھ نہ سُوجھا کہ نہایت مسکینی کے ساتھ اپنی بہن سے بولے بہن ! لا ؤ وہ کلام جو تم لوگ سُن رہے تھے میں بھی اسے پڑھوں گا۔عمر کی بہن کے ایمان کا شعلہ اب بھڑک چکا تھا اب وہ عورت نہ تھی ایک شیرنی تھی اب عمر ایک مرد نہ تھا ایک گیدڑ تھا جو شیر کے حملہ کا انتظار کر رہا ہو۔بہن نے کہا کیا تم قرآن کو ہاتھ لگا سکتے ہو تم جو پاک اور نا پاک کا فرق نہیں کر سکتے میں ہر گز تمہیں قرآن کریم کو ہاتھ لگانے نہ دوں گی۔عمر نے جو اپنی ظالمانہ کرتوت کی ندامت کے اثر سے بھیگی بلی بنے سامنے کھڑے تھے لجاجت کرتے ہوئے بہن سے کہا کہ بہن میں کیا کروں جس سے قرآن کریم کو ہاتھ لگانے کے قابل بن جاؤں۔بہن نے کہا وہ سامنے غسل خانہ ہے وہاں جاؤ اور غسل کر کے آؤ پھر قرآن کریم کو ہاتھ لگانے دوں گی۔عمر خاموشی سے وہاں گئے اور غسل کیا پھر بہن کے سامنے آئے اب بہن کے دل میں بھی امید کی شعاع پیدا ہونے لگی اور اُس نے دھڑکتے دل سے سوچنا شروع کیا کہ شاید میرا کافر بھائی اسلام کی روشنی سے حصہ پالے اور کا پنتے ہاتھوں سے قرآن کے وہ ورق جس کا سبق میاں بیوی لے رہے تھے عمر کے ہاتھ میں دیئے۔عمرؓ نے قرآن کریم کو آج پہلے دن اس حالت میں پڑھا کہ ان کا دل تعصب سے آزاد تھا ابھی چند آیات ہی پڑھی تھیں کہ قرآن کریم نے ان کے دل کو رام کرنا شروع کیا کچھ آیتیں اور پڑھیں تو آنکھوں سے آنسو بہنے لگے کچھ اور آگے بڑھے تو اپنے کفر سے گھن آنے لگی اپنی سابق زندگی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے کچھ اور آیتیں پڑھیں تو دل ہاتھ سے جاتا رہا دیوانہ وار