انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 395

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۹۵ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین برداشت سے باہر ہوگئی ہیں آخر ہم نے تمہارا کیا قصور کیا ہے؟ ہم یہی کہتے ہیں نا کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے لیکن تم ہمیں اس سے بھی روکتے ہو اس لئے ہم جا رہے ہیں۔یہ بے بسی اور بے کسی کا منظر دیکھ کر سنگدل عمر جس کے دل میں مسلمانوں کے لئے ذرا رحم نہ تھا اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہا۔اچھا بی بی تمہارا خدا حافظ یہ کہہ کر منہ پھیر لیا۔پس عورتوں نے وطن چھوڑے ، ماریں بھی کھائیں اور موت کو بھی قبول کیا لیکن خدائے واحد کے نام کو چھپانا پسند نہ کیا۔یہ عورتیں بھی تمہارے جیسی عورتیں تھیں جس طرح تمہارے سینوں میں دل ہیں ان کے سینوں میں بھی دل تھے ، جس طرح تمہاری اولادیں ہیں ان کی بھی اولادیں تھیں لیکن خدا کے رستے میں انہوں نے ہر چیز قربان کر دی۔حضرت عمر کی بہن بھی عورت ہی تھیں جن کے ذریعے حضرت عمر کو تبلیغ ہوئی۔حضرت عمرؓ کے متعلق آتا ہے کہ آپ ہاتھ میں تلوار لے کر باہر نکلے کسی نے پوچھا کہ عمر کہاں جارہے ہو؟ حضرت عمر نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔اُس نے کہا کہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کر کے تمہیں کیا ملے گا اگر تم اسے قتل کرو گے تو اس کا خاندان تمہیں اور تمہارے خاندان کو قتل کر دے گا اس لئے بہتر ہے کہ پہلے تم اپنے خاندان کی خبر لو تمہاری اپنی بہن مسلمان ہو چکی ہے تم دوسروں کو کیا کہتے ہو۔حضرت عمر یہ سن کر سید ھے اپنی بہن کے گھر کی طرف آئے جس وقت حضرت عمرؓ ان کے گھر پہنچے اُس وقت ایک صحابی ان کی بہن اور بہنوئی کو قرآن مجید پڑھا رہے تھے۔حضرت عمر نے دروازہ پر دستک دی آپ کی بہن اور بہنوئی نے صحابی کو چھپا دیا اور قرآن کریم کے پرچے بھی چھپا دیئے۔جب حضرت عمر اندر داخل ہوئے تو آپ نے اپنی بہن سے پوچھا کیا چیز تھی جو تم پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے کہا قرآن تھا۔حضرت عمرؓ نے پوچھا تمہیں کون پڑھا رہا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ آپ کو اس سے کیا تعلق۔پھر حضرت عمرؓ نے پوچھا سنا ہے تم صابی ہو گئے ہو اور یہ کہہ کر اپنے بہنوئی کو مارنے کے لئے آگے بڑھے۔جب آپ نے ہاتھ اُوپر اُٹھا کر بازوؤں کو زور سے حرکت دی تو ان کی بیوی کو یہ دیکھ کر کہ ان کا خاوند اسلام لانے کی وجہ سے پیٹنے لگا ہے جوش آگیا اور وہ دوڑ کر حضرت عمرؓ اور اپنے خاوند کے درمیان آکر کھڑی ہو گئیں اور کہا ہاں ہاں ہم مسلمان ہو گئے ہیں مارنا چاہتے ہو تو