انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 379

انوار العلوم جلد ۱۸ اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے بھی چل پڑا۔صحابہ نے خیال کیا کوئی اجنبی آدمی ہے اور اپنا سفر طے کر رہا ہے اس لئے کسی نے اس سے مزاحمت نہ کی۔مدینہ کے قریب پہنچ کر جب صحابہ کو اطمینان ہو گیا کہ اب ہم خطرہ والے علاقے سے نکل کر اپنے علاقہ میں داخل ہو گئے ہیں تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ دیر آرام کرنے کے لئے عرض کیا آپ نے اس کی اجازت دے دی۔دو پہر کا وقت تھا صحابہ مختلف درختوں کے نیچے آرام کرنے کے لئے لیٹ گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک علیحدہ درخت کے نیچے جا کر لیٹ گئے اور اپنی تلوار درخت سے لٹکا دی آپ کی آنکھ لگ گئی۔وہ شخص جو لشکر میں آپ کا پیچھا کرتا آرہا تھا اُس نے آپ کی تلوار لی اور تلوار ننگی کر کے آپ کو جگایا اور آپ کو کہا کہ میں کافی فاصلہ سے آپ کا پیچھا کر رہا تھا مگر مجھے موقع نہیں ملتا تھا اب مجھے موقع ملا ہے اور میں آپ کو قتل کرنا چاہتا ہوں اب آپ بتائیں کہ آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بغیر کسی گھبراہٹ کے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ بچا سکتا ہے؟ ہزاروں لاکھوں لوگ منہ سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے لیکن جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اس یقین اور اعتماد کا ثبوت نہیں دیتے بلکہ دنیوی اسباب کی طرف اپنی نگاہ دوڑاتے ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے یہ فقرہ ایسے یقین اور رعب کے ساتھ نکلا کہ اس شخص کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُٹھ کر وہ تلوار پکڑ لی اور تلوار کھینچ کر اس سے پوچھا اب بتاؤ تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ اُس شخص نے نہایت خوف و ہراس کی حالت میں کہا آپ ہی رحم کریں اور میری جان بخشی کریں۔آپ نے اسے فرمایا بیوقوف تم نے مجھ سے سن کر بھی سبق نہ سیکھا تمہیں کہنا چاہئے تھا مجھے اللہ تعالیٰ بچا سکتا ہے۔آپ کو یہ سن کر خوشی نہیں ہوئی کہ اس نے میری تعریف کی ہے بلکہ آپ کو تکلیف ہوئی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا نام کیوں چھوڑ دیا۔اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے ساتھ کیوں تھا اور اس وقت وہ مسلمانوں کو کافروں پر کیوں غلبہ عطا کرتا تھا اور آج کیوں ان کی اولادوں کو چھوڑ بیٹھا ہے؟ کیا اس وقت نَعُوذُ باالله خدا بوڑھا ہو گیا ہے یا اب خدا مر گیا ہے یا اس پر تعطل کی حالت طاری ہے یا اسلام کے لئے اس کے دل میں غیرت نہیں رہی یا اسے اسلام سے نفرت ہوگئی ہے؟ نہیں! اللہ تعالیٰ کی