انوارالعلوم (جلد 18) — Page 378
اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے انوار العلوم جلد ۱۸ فرشتے ہیں بھیڑوں کے ذبح کرنے کے لئے مستعد بیٹھے ہیں محض آسمانی اجازت کی انتظار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں تب میں ان کے نزدیک گیا اور میں نے قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی۔قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمُ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا تمہاری پر واہ کیا رکھتا ہے اگر تم اُس کی پرستش نہ کرو اور اُس کے حکموں کو نہ سنو۔میرا یہ کہنا ہی تھا کہ فرشتوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہمیں اجازت دی گئی ہے گویا میرے منہ کے لفظ خدا کے لفظ تھے۔تب فرشتوں نے جو قصابوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے فی الفور اپنی بھیڑوں پر چھریاں پھیر دیں اور چھریوں کے لگنے سے بھیٹروں نے ایک درد ناک طور پر تڑپنا شروع کیا۔تب ان فرشتوں نے سختی سے ان بھیڑوں کی گردن کی تمام رگیں کاٹ دیں اور کہا تم چیز کیا ہو گوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہوئے اس رویا میں اللہ تعالیٰ نے دنیا دار اور دنیا پرست لوگوں کی تشبیہہ گو کھانے والی بھیڑوں سے دی ہے کہ ایسے لوگوں کی خدا تعالیٰ کو پرواہ ہی کیا ہے جس طرح بھیڑیں بغیر کسی درد کے ذبح کی جاتی ہیں اسی طرح ایسے لوگ ذبح کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان پر رحم نہیں کھائے گا۔اللہ تعالیٰ بھی انہی لوگوں کی پرواہ کرتا ہے جو اس کی پرواہ کرتے ہیں۔آخر رسول کریم ﷺ بھی آدمی ہی تھے کہ تمام دنیا کی مخالفت ان کو کوئی گزند نہ پہنچا سکی۔بلحاظ بشریت کے دوسرے انسانوں کی طرح آپ بھی ایک بشر تھے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ایک انسان کے خلاف ایک گاؤں کے لوگ ہی ہو جائیں تو اس کا جینا دشورا ہو جاتا ہے لیکن تمام دنیا ایک طرف تھی اور آپ ایک طرف تھے اس کے باوجود دنیا آپ کا بال بھی بیکا نہ کر سکی۔ان لاکھوں لاکھ انسانوں کیلئے اللہ تعالیٰ کی غیرت نہ بھر کی لیکن اس ایک انسان کیلئے خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا۔وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ٣ گویا یہ تمام دنیا کو ایک پہینچ تھا کہ تم ہمارے اس بندے کو چھیڑ کر تو دیکھو کہ تمہارا کیا حال ہوتا ہے میں اللہ جو تمام کائنات عالم کا مالک ہوں میں اس کی حفاظت کرنے ولا ہوں۔بعض دفعہ دشمن آپ تک پہنچ بھی گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزانہ طور پر آپ کو بچایا کہ آج تک دنیا ان واقعات کو پڑھ کر حیران رہ جاتی ہے۔، جنگ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آ رہے تھے تو ساتھ ساتھ ایک دشمن