انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 376

انوارالعلوم جلد ۱۸ اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے عورت کو چھیڑا ( اس بے چاری کو کچھ پتہ نہ تھا کہ خلافت ٹوٹ چکی ہے اور تقسیم ہو کر مختلف حصوں میں بٹ چکی ہے وہ یہی سنتی آرہی تھی کہ ابھی تک یہاں خلیفہ کی حکومت ہے ) اس نے اس خیال کے ماتحت خلیفہ کو پکار کر بلند آواز سے يَا لَلْخَلِيفَة کہا یعنی اے خلیفہ ! میں مدد کے لئے تمہیں آواز دیتی ہوں۔اُس وقت وہاں سے ایک قافلہ گزررہا تھا اس نے یہ باتیں سنیں وہ قافلہ بغداد کی طرف جا رہا تھا۔پرانے زمانے میں رواج تھا کہ جب قافلہ شہر میں آتا تو قافلہ کی آمد کی خبر سن کر لوگ شہر کے باہر قافلہ کے استقبال کے لئے جاتے اور تاجر لوگ بھی اُس وقت وہاں پہنچ جاتے اور آج کل کی بلیک مارکیٹ کی طرح وہیں مال خریدنے کی کوشش کرتے کیونکہ جو مال باہر سے آتا تھا وہ سفر کی مشکلات کی وجہ سے بہت کم آتا تھا اس لئے ہر ایک تاجر یہی کوشش کرتا تھا کہ وہیں جا کر سودا کرے اور اسے دوسروں سے پہلے حاصل کر لے۔جب وہ قافلہ آیا اور شہری اس کے استقبال کے لئے شہر سے باہر گئے اور اسے ملے تو اہلِ شہر نے ان سے سفر کے حالات پوچھنے شروع کئے اور کہا کہ کوئی نئی بات سناؤ۔انہوں نے کہا سفر ہر طرح آرام سے گزرا مگر ہم نے راستہ میں ایک عجیب تمسخر سنا۔ایک عورت خلیفہ کو آواز میں دے رہی تھی اور مدد کے لئے بلا رہی تھی۔اُس بے چاری کو کیا پتہ کہ اس جگہ اب اس کی حکومت ہی نہیں اور اب وہ وظیفہ خوار بادشاہ ہے۔یہ باتیں سننے والوں میں سے ایک درباری بھی تھا وہ دربار میں آیا اور بادشاہ سے اس بات کا ذکر کیا۔اُس نے کہا آج ایک عجیب بات سنی ہے ایک قافلہ فلاں جگہ سے آیا اور اُس نے سنایا کہ ایک عورت خلیفہ کو مدد کے لئے پکارتی تھی۔اگر چہ خلافت اُس وقت مٹ چکی تھی مگر معلوم ہوتا ہے کہ ابھی اسلامی ایمان کی کوئی چنگاری باقی تھی ، خلیفہ میں کوئی طاقت نہ تھی وہ جانتا تھا کہ میں اکیلا ہوں لیکن جب اُس نے یہ بات سنی تو تخت سے اتر آیا اور ننگے پاؤں چل پڑا اور کہا کہ گواب خلیفہ کا وہ اقتدار نہیں رہا مگر بہر حال اس عورت نے خلافت کو آواز دی ہے، اب میرا فرض ہے کہ میں اس کے پاس جاؤں اور اُس کی مدد کروں۔یہ بات ایسی ہے کہ آج یہاں بیٹھے ہوئے ہمارا خون کھولنے لگتا ہے اُس زمانہ میں کیوں نہ کھولا ہوگا جو نہی یہ بات دوسرے بادشاہوں نے سنی انہوں نے خلیفہ کو یہ اطلاع بھیجی کہ ہم ہر طرح آپ کی مدد کریں گے آپ اُس عورت کو آزاد کرائیں اور اُن سے اِس کا بدلہ لیں۔چنانچہ وہ گئے اور انہوں نے