انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 375

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۷۵ اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے سا را نقشه اسلامی حکومتوں کے رنگ سے رنگیں تھا یا آج یہ حالت ہے کہ یورپین حکومتیں دنیا پر چھائی ہوئی ہیں اور مسلمان ان کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ایک زمانہ وہ تھا اسلامی رنگ نقشہ میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھرا ہوا تھا۔چین میں سینکڑوں سال تک مسلمانوں نے حکومت کی ہے یہاں تک کہ آج بھی جاپانی مائیں اپنے بچوں کو یہ کہہ کر ڈراتی ہیں کہ چپ کر چپ کر جو گو ، یعنی مسلمان آ گیا۔امریکہ میں بھی بعض مسجد میں پائی گئیں ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ وہاں تک مسلمان پھیلے ہوئے تھے اور فلپائن وغیرہ میں بھی مسلمان موجود تھے غرض کوئی گوشہ دنیا کا ایسانہ تھا جہاں اسلامی حکومت قائم نہ تھی۔وہ حکومتیں ملکی حکومتیں تھیں امپیریل ازم نہ تها الأمَاشَاءَ الله - اگر کسی زمانہ کے مسلمانوں نے کوئی غلطی کی ہو تو وہ اپنی غلطی کے آپ ذمہ دار تھے اسلام ذمہ دار نہیں۔مجھے حیرت آتی ہے کہ ان باتوں کو معلوم کر کے بھی مسلمانوں کے دلوں میں معمولی سی گدگدی بھی پیدا نہیں ہوتی۔جب کسی زمیندار کے بیٹے سے پوچھا جائے کہ آپ کسی خاندان سے ہیں۔تو وہ گنا شروع کر دیتا ہے کہ میں فلاں چوہدری کا بیٹا ہوں، فلاں چوہدری کا پوتا ہوں لیکن مسلمانوں کے دل اس بات کو نہیں سوچتے کہ ہم کن لوگوں کی اولادیں ہیں اور ہمارے آباء واجداد کس شان کے لوگ تھے۔ساتویں صدی میں جبکہ مسلمان بہت کچھ گر چکے تھے اس گرے ہوئے زمانہ میں بھی مسلمانوں کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے لئے غیرت موجود تھی اُس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ خلافت بغداد بالکل تباہ ہو کر ریاستوں کی شکل اختیار کر چکی تھی لیکن نام باقی تھا، کہتے ہیں کہ ہاتھی مرا ہوا بھی بھاری ہوتا ہے، خلافت تو تھی گو چند گاؤں بھی ان کے قبضہ میں نہ رہے تھے صرف بغداد میں ہی ان کی حکومت محدود تھی باقی سب جگہ دوسری بادشاہتیں قائم ہوگئی تھیں۔وہ بادشاہ مطلق العنان ہونے کے باوجود خلافت کا احترام کرتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ ہم تو نائب بادشاہ ہیں اصل بادشاہ خلیفہ ہے یوں وہ اپنا قانون چلاتے تھے ، اپنی فوجیں رکھتے تھے ، خود ہی لڑائیاں لڑتے تھے ، خود ہی فیصلے کرتے تھے ، خود ہی معاملات طے کرتے تھے اور خلیفہ کو پوچھتے تک بھی نہ تھے مگر اس نام کی بھی برکت تھی۔اُس زمانہ میں مسلمانوں کے ایک علاقہ میں سے جبکہ مسلمان کمزور ہو چکے تھے یورپین فو جیں گزریں اور انہوں نے کسی مسلمان