انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 370

انوار العلوم جلد ۱۸ یورپ کا پہلا شہید شریف دو تا لئے آگے بڑھ رہے ہیں کیا تم اپنے مالوں کی محبت کی وجہ سے اپنی آنکھوں کے سامنے اُن کو مرتا ہوا دیکھو گے اگر وہ اس حالت میں مرے کہ تم نے بھی قربانی کا پورا نمونہ دکھا دیا ہوگا تو وہ اگلے جہان میں تمہارے شفیع ہونگے اور خدا کے حضور میں تمہاری سفارش کریں گے لیکن اگر وہ اس طرح جان دینے پر مجبور ہوئے کہ ان کی قوم نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور ان کے وطن نے ان کو مدد نہ پہنچائی تو وہ تو شہید ہی ہونگے مگر ان کے اہل وطن کا کیا حال ہوگا؟ دنیا میں ذلت اور عقبی میں ؟ اس سوال کا جواب نہ دینا جواب دینے سے اچھا ہے۔اس دنیا کی ذلت سے تو انسان منہ چھپا کر گزارہ کر سکتا ہے مگر اُس دنیا میں وہ کیا کرے گا ؟ غالب نے خوب کہا ہے ع اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے جو ذلت صرف اس دنیا کے متعلق ہو موت اُس سے نجات دے سکتی ہے مگر جو دونوں جہان سے متعلق ہوموت اُس میں کیا فائدہ دے گی وہ تو کلنک کے ٹیکہ کو اور بھی سیاہ کر دے گی۔پس اے عزیز و ! کمریں کسی لو اور زبانیں دانتوں میں دبا لو جو تم میں سے قربانی کرتے ہیں وہ اور زیادہ قربانیاں کریں اپنے حوصلہ کے مطابق نہیں دین کی ضرورت کے مطابق اور جو نہیں کرتے قربانی کرنے والے انہیں بیدار کریں۔ہر تحریک جدید کا حصہ دار اپنے پر واجب کر لے کہ وہ دفتر دوم کے لئے ایک نیا حصہ دار تیار کریگا اور جب تک وہ ایسا نہ کر سکے وہ سمجھ لے کہ میری پہلی قربانی بیکار گئی اور شاید کسی نقص کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے دربار سے واپس کر دی گئی۔وہ پھل جو درخت بن گیا وہی پھل ہے جو کسی کے پیٹ میں جا کر فضلہ بن گیا اور اپنی نسل کو قائم نہ رکھ سکا وہ کیا پھل ہے۔خدا ہی اس پر رحم کرے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد البقرة: ۲۱۷ الفضل قادیان ۱۲ / جولائی ۱۹۴۶ ء )