انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 369

۳۶۹ یورپ کا پہلا شہید شریف دو تا انوارالعلوم جلد ۱۸ ہوئی۔مصر کا شہید ہندوستانی تو نہ تھا مگر اسے بھی ہندوستانیوں ہی نے نور احمدیت سے روشناس کر وایا تھا۔اب یورپ کا پہلا شہید گو ہندوستانی نہ تھا مگر کون تھا جس نے اس کے اندر اسلام کا جذ بہ پیدا کیا، کون تھا جس نے اسے صداقت پر قائم رہنے کی ہمت دلائی؟ بے شک ایک ہندوستانی احمدی۔اے عزیز و افتح تمہاری سابق قربانیوں سے قریب آ رہی ہے مگر جوں جوں وہ قریب آ رہی ہے تمہاری سابق قربانیاں اس کے لئے ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔نئے مسائل نئے زاویہ نگاہ چاہتے ہیں ، نئے اہم امور ایک نئے رنگ کی قربانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں اب ہماری سابق قربانیاں بالکل ویسی ہی ہیں جیسے ایک جوان کے لئے بچہ کا لباس۔کیا وہ اس لباس کو پہن کر شریفوں میں گنا جا سکتا ہے یا عقلمندوں میں شمار ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں تو جان لو کہ اب تم بھی آج سے پہلے کی قربانیوں کے ساتھ وفاداروں میں نہیں گنے جا سکتے اور مخلصوں میں شمار نہیں ہو سکتے۔اب جہاد ایک خاص منزل پر پہنچنے والا ہے۔پہلا دور مصیبتوں کا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دعوئی رسالت کے ابتدائی دور کے مشابہہ تھا گزر گیا۔اب دوسرا دور چل رہا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وادی میں نظر بند ہونے کے مشابہہ ہے۔آج اگر ہم نے اس دور کے مطابق قربانیاں نہ کیں تو ہمارا ٹھکانا کہیں نہ ہوگا۔ہماری مثال اس صورت میں اُس شخص کی سی ہوگی جو منار کی چوٹی پر پہنچ کر گر جاتا ہے۔مبارک ہے وہ جو منار پر چڑھ جاتا ہے مگر اُس سے زیادہ بد قسمت بھی کوئی نہیں جو مینار کی چوٹی پر چڑھ کر گر جاتا ہے۔ہمارے نوجوان قربانیوں کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلهِ۔لیکن ہمارے چندہ دہندگان اپنے بٹووں کو کھولنے کی بجائے اُن کا منہ بند کر رہے ہیں۔اِنَّا لِلَّهِ اے غافلو! جاگو۔اے بے پروا ہو! ہوشیار ہو جاؤ۔تحریک جدید نے تبلیغ اسلام کے لئے ایک بہت بڑا کام کیا ہے مگر اب وہ کام اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ موجودہ چندے اس کے بوجھ کو اُٹھا نہیں سکتے۔مبارک ہے وہ سپاہی جو اپنی جان دینے کے لئے آگے بڑھتا ہے مگر بد قسمت ہے اس کا وہ وطنی جو اُس کے لئے گولہ بارود مہیا نہیں کرتا۔گولہ بارود کے ساتھ ایک فوج دشمن کی صفوں کو تہہ و بالا کر سکتی ہے مگر اس کے بغیر وہ ایک بکروں کی قطار ہے جسے قصائی یکے بعد دیگرے ذبح کرتا جائے گا۔تمہارے بیٹے ہاں بیٹوں سے بھی زیادہ قیمتی وجود جان دینے کے