انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 368

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۶۸ یورپ کا پہلا شہید شریف دوتسا وقت پہاڑوں میں بیٹھ کر مسلمانوں کی قیادت کر رہا ہے اور کمیونسٹ حکومت سے برسر پیکار ہے۔ اللہ تعالٰی اس عزیز کی حفاظت کرے اور اگر اس کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کے لئے مفید ہے تو اسے کامیاب کرے اور اگر بظاہر بری نظر آنے والی البانین کمیونسٹ حکومت آئندہ اسلام کیلئے مفید اور کارآمد ثابت ہونے والی ہے تو اسے اس سے صلح اور اتحاد کی توفیق بخشے کہ علم غیب اللہ ہی کو ہے اور علی أن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ لے نہ صرف الہی فرمان ہے بلکہ بار بار انسان کے تجربہ میں آچکا ہے ۔ اَللهُمَّ امِینَ ۔ دوست اپنی دعاؤں میں عزیز بہرام کے لئے دعا کرتے رہا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کا حافظ و ناصر ہو اور اسے صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق بخشے ۔ بعض اور ذمہ دار فوجی افسر بھی البانیہ میں احمدی ہیں نہ معلوم ان کا کیا حال ہے۔ احباب ان کیلئے بھی دعا کرتے رہا کریں۔ یہ واقعہ ہمارے لئے تکلیف دہ بھی ہے اور خوشی کا موجب بھی ۔ تکلیف کا موجب اس لئے کہ ایک بار سوخ آدمی جو جنگ کے بعد احمدیت کی اشاعت کا موجب ہو سکتا تھا ہم سے ایسے موقع پر جدا ہو گیا جب ہماری تبلیغ کا میدان وسیع ہو رہا تھا اور خوشی کا اس لئے کہ یورپ میں بھی احمدی شہداء کا خون بہایا گیا۔ وہ مادیت کی سرزمین جو خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دور بھاگ رہی تھی اور وہ علاقہ جو کمیونزم کے ساتھ دہریت کو بھی دنیا میں پھیلا رہا تھا وہاں خدائے واحد کے ماننے والوں کا خون بہایا جانے لگا ہے ۔ یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا اس کا ایک ایک قطرہ چلا چلا کر خدا تعالیٰ کی مدد مانگے گا، اس کی رطوبت کھیتوں میں جذب ہو کر وہ غلہ پیدا کرے گی جو ایمان کی راہ میں قربانی کرنے کیلئے گرم اور کھولتا ہوا خون پیدا کرے گا، جو لوگوں کی رگوں میں دوڑ دوڑ کر انہیں میدانِ شہادت کی طرف لے جائے گا۔ اب یورپ میں توحید کی جنگ کی طرح ڈال دی گئی ہے مؤمن اس چیلنج کو قبول کریں گے اور شوق شہادت میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا مددگار ہو اور سعادت مندوں کے سینے کھول دے تا اسلام اور احمدیت کی فوج میں کمی نہ آئے اور اس کیلئے روز بروز زیادہ سے زیادہ مجاہد ملتے جائیں ۔ اللَّهُمَّ آمِينَ اے ہندوستان کے احمد یو! ذرا غور تو کرو۔ تمہاری اور تمہارے باپ دادوں کی قربانیاں ہی یہ دن لائی ہیں تم شہید تو نہیں ہوئے مگر تم شہید گر ضرور ہو۔ افغانستان کے شہداء ہندوستان کے نہ تھے مگر اس میں کیا شک ہے کہ انہیں احمدیت ہندوستانیوں کی ہی قربانیوں کے طفیل حاصل