انوارالعلوم (جلد 18) — Page 367
انوار العلوم جلد ۱۸ یورپ کا پہلا شہید شریف دو تا اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ یورپ کا پہلا احمدی شہید شریف دو تا۔اٹلی سے عزیزم ملک محمد شریف صاحب مبلغ نے اطلاع دی ہے کہ شریف دو تسا ایک البانوی سرکردہ اور رئیس جو البانیہ اور یوگوسلاویہ دونوں ملکوں میں رسوخ اور اثر رکھتے تھے ( دونوں ملکوں کی سرحدیں ملتی ہیں اور البانیہ کی سرحد پر رہنے والے یوگوسلاویہ کے باشندے اکثر مسلمان ہیں اور بارسوخ ہیں اور دونوں ملکوں میں ان کی جائدادیں ہیں۔عزیزم مولوی محمد الدین صاحب اس علاقہ میں رہ کر تبلیغ کرتے رہے ہیں ان کے ذریعہ سے وہاں کئی احمدی ہوئے بعد میں مسلمانوں کی تنظیم سے ڈر کر انہیں یوگوسلاوین حکومت نے وہاں سے نکال دیا اور وہ اٹلی آگئے ) اور جو یوگوسلاویہ کی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی طرف سے نمائندے تھے جنگ سے پہلے احمدی ہو گئے تھے اور بہت مخلص تھے انہیں البانیہ کی موجودہ حکومت نے جو کمیونسٹ ہے ان کے خاندان سمیت قتل کروا دیا ہے۔ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ کمیونسٹ طریق حکومت کے مخالف تھے اور جو مسلمان اس ملک میں اسلامی اصول کو قائم رکھنا چاہتے تھے ان کے لیڈر تھے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مرتے تو سب ہی ہیں اور کوئی نہیں جو الہی مقررہ عمر سے زیادہ زندہ رہ سکے مگر مبارک ہے وہ جو کسی نہ کسی رنگ میں دین کی حمایت کرتے ہوئے مارا جائے۔شریف دو تسا کو یہ فخر حاصل ہے کہ وہ یورپ کے پہلے احمدی شہید ہیں اور اَلْفَضْلُ لِلْمُتَقَدِّمِ کے مقولہ کے تحت اپنے بعد میں آنے والے شہداء کے لئے ایک عمدہ مثال اور نمونہ ثابت ہو کر وہ ان کے ثواب میں شریک ہونگے۔برادرم شریف کے خاندان میں سے ان کا بڑا لڑکا بہرام زندہ ہی ہے اور وہ اس وقت مسلمانوں کے ایک ایسے گروہ کا جو البانیہ میں اسلامی حکومت کا خواہاں ہے سردار ہے۔وہ اس