انوارالعلوم (جلد 18) — Page 360
انوارالعلوم جلد ۱۸ سپین اور سسلی میں تبلیغ اسلام اور جماعت احمدیہ سامنے یہ معاملہ رکھا۔انہوں نے بتایا کہ ایک قبیلہ ایسا ہے جس میں کچھ آدمی مل سکتے ہیں۔حضرت عمر نے ایک افسر کو حکم دیا کہ وہ فوراً اس قبیلہ میں سے نو جوان جمع کریں اور حضرت ابو عبیدہ کولکھا کہ چھ ہزار سپاہی تمہاری مدد کے لئے بھیج رہا ہوں جو چند دنوں تک تمہارے پاس پہنچ جائیں گے۔تین ہزار آدمی تو فلاں فلاں قبائل میں سے تمہارے پاس پہنچ جائیں گے اور باقی تین ہزار کے برابر عمرو بن معدی کرب کو بھیج رہا ہوں۔ہمارے ایک نو جوان کو اگر تین ہزار آدمی کے مقابلہ میں بھیجا جائے تو وہ کہے گا کہ کیسی خلاف عقل بات ہے۔کیا خلیفہ کی عقل ماری گئی ہے۔ایک آدمی کبھی تین ہزار کا مقابلہ کر سکتا ہے لیکن ان لوگوں کے ایمان کتنے مضبوط تھے۔حضرت ابوعبیدہ کو حضرت عمرؓ کا خط ملا تو انہوں نے خط پڑھ کر اپنے سپاہیوں سے کہا خوش ہو جاؤ کل عمر و بن معدی کرب تمہارے پاس پہنچ جائے گا۔سپاہیوں نے اگلے دن بڑے جوش کے ساتھ عمرو بن معدی کرب کا استقبال کیا اور نعرے لگائے۔دشمن سمجھا کہ شاید مسلمانوں کی مدد کے لئے لاکھ دولاکھ فوج آ رہی ہے اس لئے وہ اس قدر خوش ہیں حالانکہ وہ اکیلے عمرو بن معدی کرب تھے۔اس کے بعد وہ تین ہزار فوج بھی پہنچ گئی اور مسلمانوں نے دشمن کو شکست دی حالانکہ تلوار کی لڑائی میں ایک آدمی تین ہزار کا کیا مقابلہ کر سکتا ہے۔زبان کی لڑائی میں تو ایک آدمی بھی کئی ہزار لوگوں کو اپنی بات پہنچا سکتا ہے مگر وہ لوگ خلیفہ وقت کی بات کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ حضرت عمر نے عمرو بن معدی کرب کو تین ہزار سپاہیوں کا قائمقام بنا کر بھیجا تو سپاہیوں نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ اکیلا آدمی کس طرح تین ہزار کا مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ اسے تین ہزار کے برابر ہی سمجھا اور بڑی شان و شوکت سے اُس کا استقبال کیا۔مسلمانوں کے اس استقبال کی وجہ سے دشمن کے دل ڈر گئے اور وہ یہ سمجھے کہ شاید لا کھ دو لاکھ فوج مسلمانوں کی مدد کو آ گئی ہے اس لئے میدانِ جنگ سے ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ شکست کھا کر بھاگ نکلے۔سر دست ہمیں بھی اس طرح اپنے دل کو اطمینان دینا ہوگا۔صقلیہ کے لوگ آج کل اپنی آزادی کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔اس علاقے کے مسلمانوں کو جبراً عیسائی بنایا گیا تھا لیکن امتدادِ زمانہ کی وجہ سے وہ اب اپنے آبائی مذہب کو۔بالکل بھول گئے ہیں۔صقلیہ میں رہنے والوں میں سے لاکھوں ایسے ہیں جو مخلص دیندار اور