انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 355

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۵۵ سپین اور سسلی میں تبلیغ اسلام اور جماعت احمدیہ سمجھا کہ ہم نے سپین کو فتح کر لیا ہے حالانکہ پین کا ایک بہت بڑا حصہ ابھی باقی تھا جس کو بعد میں آہستہ آہستہ مسلمانوں نے فتح کیا۔جب بنو امیہ کو بنو عباس نے شکست دی تو بنو امیہ کے بعض شہزادے بھاگ کر پین چلے گئے اور اُنہوں نے ایک نئی بادشاہت وہاں قائم کر لی جو بعد میں خلافت کے نام میں تبدیل ہوگئی۔خلافت ۱۳۰۰ عیسوی تک قائم رہی۔اس علاقہ پر آٹھ سو سال تک مسلمانوں نے حکومت کی اور ان کے آباء اس شان کے تھے کہ یورپ کی بڑی سے بڑی حکومتیں بھی ان سے ڈرتی تھیں لیکن جو بیٹے پیدا ہوئے وہ معمولی معمولی باتوں پر آپس میں لڑ پڑتے تھے۔اس وجہ سے وہ اتحاد قائم نہ رکھ سکے۔ان کی اس حالت کو دیکھ کر عیسائیوں کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں نے باہم اتحاد کر کے ایک ایک کر کے مسلمانوں کے علاقے فتح کرنے شروع کئے۔وہ ایک رئیس کو دوسرے رئیس سے لڑوا دیتے اور ان میں سے ایک کی مدد کر دیتے۔اس طرح انہوں نے مسلمانوں کی طاقت کو بالکل کمزور کر دیا اور مسلمانوں کا آخری بادشاہ صرف غرناطہ کا بادشاہ رہ گیا لیکن ابھی تک اُس میں اتنی طاقت تھی اور اُس کا اتنا رعب تھا کہ باوجود اس کے کہ فرانس بھی عیسائیوں کی مدد پر تھا ان کے لئے غرناطہ کا شہر فتح کرنا مشکل ہو گیا۔عیسائیوں نے مسلمان رؤساء کو اپنے ساتھ ملایا اس کے علاوہ سارے پین، فرانس اور اردگرد کے علاقوں نے بھی اپنی نمائندہ فوجیں بھیجیں لیکن اس کے باوجود وہ اس شہر کو فتح نہ کر سکے۔آخر عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ نے یہ سوچ کر کہ اس شہر کو فتح کرنا آسان کام نہیں ، غرناطہ والوں کے سامنے یہ پیش کیا کہ اگر صلح کر لو تو ہم تمہیں اجازت دیں گے کہ اپنا سامان ساتھ لے جاؤ اور کتب خانے بھی لے جاؤ ہم کوئی تعرض نہ کریں گے۔جب یہ شرائط عیسائی بادشاہ نے پیش کیں تو مسلمان بادشاہ نے بڑے بڑے مسلمان رؤساء کو بُلایا اور اُن کے سامنے یہ شرائط پیش کیں۔انہوں نے کہا ہاں ہمیں منظور ہے۔وہ لمبے محاصرہ کی وجہ سے گھبرائے ہوئے تھے اس لئے انہوں نے بخوشی منظور کرنا پسند کر لیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اتنی طاقت نہیں کہ ہم دشمن کا مقابلہ کر سکیں اور اگر زیادہ دیر تک محاصرہ رہا تو ہم ہتھیار رکھ دینے پر مجبور ہوں گے۔اُس وقت ایک مسلمان جرنیل کھڑا ہوا اور اُس نے کہا سو سال سے عیسائی تمہارے ساتھ یہ سلوک کرتے آ رہے ہیں کہ وہ ایک حکومت سے معاہدہ