انوارالعلوم (جلد 18) — Page 354
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۵۴ سپین اور سسلی میں تبلیغ اسلام اور جماعت احمدیہ کامیابی عطا کرتی تھی۔ہسپانیہ کو طارق نامی جرنیل نے فتح کیا جو بہت تھوڑی سی فوج کے ساتھ ہسپانیہ میں داخل ہوا۔اس نے حملہ کرنے سے پیشتر اپنی فوج کے سامنے ایک تقریر کی اور فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہم اسلام کے غلبہ کے لئے اس ملک میں آئے ہیں۔(ہاں یہ بات یا درکھنی چاہئے کہ مسلمانوں نے یونہی پین پر حملہ نہیں کیا بلکہ پینی لوگوں نے افریقہ کے مسلمانوں پر حملہ کر کے لڑائی کو مسلمانوں کے لئے جائز کر دیا تھا اس جرنیل نے کہا ) یہ ملک بہت وسیع ہے اور ہماری فوج بہت تھوڑی ہے اتنے وسیع ملک کو فتح کرنے کیلئے ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا ممکن ہے کہ اتنے بڑے ملک کو سر کرنے کیلئے ہمیں لاکھوں کی فوج کا مقابلہ کرنا پڑے اور بعض مسلمانوں کے دلوں میں بُزدلی پیدا ہو کہ یہ کام ہم سے نہیں ہو سکے گا ہمارے لئے واپس جانا بھی ممکن رہے کیونکہ ہمارے جہاز تیار کھڑے ہیں ہم جہازوں پر چڑھ کر بھاگ جائیں گے اس لئے آؤ ہم پہلے اپنے جہاز غرق کریں اور پھر حملہ شروع کریں۔اگر ہم لڑائی میں فاتح ہونے کی حالت میں زندہ رہے تو ہمیں نئے جہاز مل جائیں گے اور اگر ہم مغلوب ہو گئے تو پھر ہم یہیں مر جائیں گے اور اس ذلت کی حالت میں واپس نہیں جائیں گے۔سب نے کہا ہاں ٹھیک ہے پہلے جہازوں کو غرق کرنا چاہئے تا کہ بھاگنے کا خیال بھی کسی کے دل میں نہ آئے۔چنانچہ انہوں نے اپنے جہاز غرق کر دیئے اور پھر لشکر آگے بڑھا۔لشکر ابھی تھوڑا ہی آگے بڑھا تھا کہ ہسپانیہ کی فوجیں مقابلہ کے لئے آ گئیں بہت شدت کا رن پڑا آخر ہسپانیہ کی فوجیں پسپا ہوگئیں۔کچھ دُور اور آگے بڑھے تو ہسپانیہ کی ایک تازہ دم فوج جو ایک لاکھ کے قریب تھی مقابلہ کے لئے آگے بڑھی۔چند دن کی شدید جنگ کے بعد مسلمانوں نے اُس فوج کو بھی تتر بتر کر دیا اور اس حصہ پر قابض ہو گئے۔اس علاقہ کو فتح کرنے کے بعد طارق نے ابوموسیٰ کو جو اصل کمانڈر تھے ،افریقہ میں اطلاع بھیجی کہ ہم نے یہ علاقہ فتح کر لیا ہے۔چونکہ اُس وقت لمبے فاصلے طے کرنے مشکل تھے اور ذرائع رسل و رسائل عام نہ تھے اس لئے ملک کے ایک گوشہ کو ہی ایک ملک سمجھ لیا جاتا تھا۔مثلاً مدراس کو ایک ملک ، بمبئی کو ایک ملک اور سندھ کو ایک ملک خیال کیا جاتا تھا۔اُندلسیہ جو سپین کا نچلا علاقہ ہے یہ بھی اُس وقت کے لحاظ سے ایک بہت بڑا علاقہ سمجھا جاتا تھا اُنہوں نے