انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 340

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۴۰ ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھا ہوں کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چندہ نہیں دیا زکوۃ آپ نے ساری عمر نہیں دی۔اگر چندہ دینا ہی سب سے بہتر ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو نَعُوذُ بِاللہ نہایت ہی ادنی درجہ کی جنت میں جانے کا حق رکھتے ہیں۔کروڑ پتی تاجر جو برلا قسم کے ہوں وہ تو عرش پر اللہ تعالیٰ سے باتیں کر رہے ہوں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نَعُوذُ بِاللهِ نیچے بیٹھے ہونگے۔میں تو حیران ہوں کہ ایک مسلمان مسلمان کہلاتے ہوئے اس قد را ندھا کس طرح بن جاتا ہے کہ وہ ایسی بات کہتا ہے جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود علیہ السلام کی ہتک ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے جب میں بعض لوگوں سے یہ سنتا ہوں کہ سلسلہ کو روپیہ کما کر دینا زیادہ اچھا ہے بجائے اس کے کہ سلسلہ کیلئے اپنی یا اپنے کسی لڑکے کی زندگی وقف کی جائے حالانکہ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اکثر نا دہند ہوتے ہیں کیونکہ انبیاء کی ہتک کرنے والے کو نیکی کی توفیق کبھی نہیں ملتی۔جو لوگ دین کے لئے اپنی زندگی وقف کرتے ہیں عارضی طور پر یا مستقل طور پر ، وہی لوگ ہیں جن کو چندہ دینے کی بھی توفیق ملتی ہے۔پس ان شیطانی وساوس سے بچنا چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ اس قسم کے وساوس کے بعد انسان کی جگہ جنت میں نہیں رہ سکتی۔جب وہ پھسلا تو بہر حال نیچے ہی گرے گا۔جو لوگ سیٹرھیوں سے گرتے ہیں گرنے کے بعد ان کے اختیار میں نہیں ہوتا کہ وہ ٹک سکیں ، اتفاقی طور پر کوئی روک آ جائے تو اور بات ہے اسی طرح جب بھی کوئی شخص صراط مستقیم سے گرتا ہے وہ بہت نیچے چلا جاتا ہے یہ ایسی چیز نہیں جسے انسان سرسری نظر سے دیکھنے لگے۔یہ معمولی بات نہیں بلکہ انسان کو تَحْتَ الشَّری میں گرا دینے والی بات ہے۔صدر انجمن احمدیہ کو چاہئے کہ چار پانچ حفاظ مقرر کرے جن کا کام یہ ہو کہ وہ مساجد میں نمازیں بھی پڑھایا کریں اور لوگوں کو قرآن کریم بھی پڑھا ئیں۔اسی طرح پر جو قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتے اُن کو ترجمہ پڑھا دیں۔اگر صبح و شام وہ محلوں میں قرآن پڑھاتے رہیں تو قرآن کریم کی تعلیم بھی عام ہو جائے گی اور یہاں مجلس میں بھی جب کوئی ضرورت پیش آئے گی تو ان سے کام لیا جا سکے گا۔بہر حال قرآن کریم کا چرچا عام کرنے کے لئے ہمیں حفاظ کی سخت ضرورت ہے۔انجمن کو چاہئے کہ وہ انہیں اتنا کافی گزارہ دے کہ جس سے وہ شریفانہ طور پر