انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 13

انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام اُس کے مُلک کے تمام مسلمانوں کو اچھی نظر آتی تھیں، وہ تمام خدمات جو اُس کے ملک کی غیر اقوام کو بھی اچھی نظر آتی تھیں ، وہ تمام خدمات جو صرف اُس کے ملک کے اپنوں اور غیروں کو ہی نہیں بلکہ غیر ممالک کے لوگوں کو بھی اچھی نظر آتی تھیں ، وہ تمام خدمات جو صرف اُس کے زمانہ میں ہی لوگوں کو اچھی نظر آتی تھیں بلکہ آج تیرہ سو سال گزرنے کے بعد بھی وہ لوگ جو اُس کے آقا پر حملہ کرنے سے نہیں چوکتے جب عمر کی خدمات کا ذکر آتا ہے تو کہتے ہیں۔بے شک عمر اپنے کارناموں میں ایک بے مثال شخص تھا۔وہ تمام خدمات خود عمر کی نگاہ میں بالکل حقیر ہو جاتی ہیں اور وہ تڑپتے ہوئے کہتا ہے اللَّهُمَّ لَا عَلَيَّ وَلَا لِی اے میرے رب ! ایک امانت میرے سپرد کی گئی تھی۔میں نہیں جانتا کہ میں نے اس کے حقوق کو ادا بھی کیا ہے یا نہیں۔اس لئے میں تجھ سے اتنی ہی درخواست کرتا ہوں کہ تو میرے قصوروں کو معاف فرما دے اور مجھے سزا سے محفوظ رکھ۔ہر چیز کیلئے اچھے ماحول کی ضرورت یہ ماحول میں نے اس لئے بیان کیا ہے کہ کوئی چیز اچھے ماحول کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔اچھی سے اچھی گٹھلی لو اور اُسے ایسی زمین میں دبا دو جو اُس کے مناسب حال نہ ہو یا گٹھلی کو اگانے کی قابلیت اپنے اندر نہ رکھتی ہو تو وہ بھی اچھا درخت پیدا نہیں کر سکتی۔لیکن اگر ماحول اچھا ہو تو معمولی اور ادنی بیج بھی نشو ونما حاصل کر لیتا ہے۔پس یہ وہ ماحول ہے جو اسلام نے پیش کیا اور ایسے ہی ماحول میں پبلک کے مفید مطلب اقتصادی نظام چل سکتا ہے۔اس ماحول کے بیان کرنے کے بعد اب میں دنیا میں تین قسم کے اقتصادی نظام یہ بتا تا ہوں کہ دنیا میں تین قسم کے اقتصادی نظام ہوتے ہیں۔ایک نظام غیر آئینی ہوتا ہے یعنی ہم اس کا نام اقتصادی نظام محض بات کو سمجھنے کے لئے رکھ دیتے ہیں ورنہ حقیت یہ ہے کہ بعض تو میں اور حکومتیں دنیا میں ایسی ہیں جنہوں نے کبھی بھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ انہوں نے اپنے اقتصادی نظام کو کس طرح چلاتا ہے۔جس طرح انسان بعض دفعہ رستہ میں چلتے ہوئے کسی چیز کو اٹھا لیتا ہے اسی طرح ان لوگوں کے سامنے اگر اقتصادی ترقی کے لئے کوئی قومی ذریعہ آ جائے تو وہ اسے اختیار کر لیتے ہیں، فردی ذریعہ آجائے تو اُسے اختیار کر لیتے