انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 12

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۲ اسلام کا اقتصادی نظام کے کسی حکمران میں نظر نہیں آتی۔خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کام کی تو وہ بے حد تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ وہ شخص تھا جس نے رات اور دن انہماک کے ساتھ اسلام کے قوانین کی اشاعت اور مسلمانوں کی ترقی کے فرض کو سرانجام دیا۔مگر عمر کا اپنا کیا حال تھا۔اُس کے سامنے باوجود ہزاروں کام کرنے کے باوجود ہزاروں قربانیاں کرنے کے باوجود ہزاروں تکالیف برداشت کرنے کے یہ آیت رہتی تھی کہ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أن تُؤدُّوا الأمن إلى أهلها اور یہ کہ وإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بالعدل یعنی جب تمہیں خدا کی طرف سے کسی کام پر مقرر کیا جاوے اور تمہارے مُلک کے لوگ اور تمہارے اپنے بھائی حکومت کے لئے تمہارا انتخاب کریں تو تمہارا فرض ہے کہ تم عدل کے ساتھ کام کرو اور اپنی تمام قوتوں کو بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لئے صرف کر دو۔چنانچہ حضرت عمررؓ کا یہ واقعہ کیسا دردناک ہے کہ وفات کے قریب جبکہ آپ کو ظالم سمجھتے ہوئے ایک شخص نے نادانی اور جہالت سے خنجر سے آپ پر وار کیا اور آپ کو اپنی موت کا یقین ہو گیا تو آپ بستر پر نہایت کرب سے تڑپتے تھے اور بار بار کہتے تھے اَللّهُمَّ لَا عَلَيَّ وَلَا لِى - اللهم لَا عَلَيَّ وَلَا لِي اے خدا! تو نے مجھ کو اس حکومت پر قائم کیا تھا اور ایک امانت تو نے میرے سپرد کی تھی۔میں نہیں جانتا کہ میں نے اس حکومت کا حق ادا کر دیا ہے یا نہیں۔اب میری موت کا وقت قریب ہے اور میں دنیا کو چھوڑ کر تیرے پاس آنے والا ہوں۔اے میرے رب ! میں تجھ سے اپنے اعمال کے بدلہ میں کسی اچھے اجر کا طالب نہیں ، کسی انعام کا خواہشمند نہیں بلکہ اے میرے رب ! میں صرف اس بات کا طالب ہوں کہ تو مجھ پر رحم کر کے مجھے معاف فرما دے اور اگر اس ذمہ داری کی ادائیگی میں مجھ سے کوئی قصور ہو گیا ہو تو اُس سے درگزر فرما دے۔عمر وہ جلیل القدر انسان تھا جس کے عدل اور انصاف کی مثال دنیا کے پردہ پر بہت کم پائی جاتی ہے۔مگر اس حکم کے ماتحت کہ وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ جب وہ مرتا ہے تو ایسی بے چینی اور ایسے اضطراب کی حالت میں مرتا ہے کہ اُسے وہ تمام خدمات جو اُس نے ملک کی بہتری کے لئے کیں، وہ تمام خدمات جو اُس نے لوگوں کی بہتری کے لئے کیں۔وہ تمام خدمات جو اس نے اسلام کی ترقی کے لئے کیں بالکل حقیر نظر آتی ہیں۔وہ تمام خدمات جو