انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 312

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۱۲ پارلیمینٹری مشن اور ہندوستانیوں کا فرض ایک غلط خیال ہوگا کیونکہ بدھ ، کرشن ہیسٹی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے لوگ بھی دوسرے کا مذہب نہیں بدلواتے تھے ان کو تبلیغ سے اور اپنے ہم مذہبوں کو مذہب تبدیل کرنے سے روکتے تھے اور تبلیغ کرنے والوں اور مذہب تبدیل کرنے والوں کو سزائیں دیتے تھے۔اگر ایسا ہی ارادہ آپ لوگوں نے کیا تو اُسی لعنت کے آپ حصہ دار ہوں گے جس لعنت کا بوجھ ان پہلوں پر پڑ چکا ہے۔خلاصہ یہ کہ یہ وقت ایسا نہیں کہ غلط اور سنی سنائی باتوں کو لے کر پبلک میں ہیجان پیدا کیا جائے یا پارلیمنٹری مشن پر اثر ڈالنے کی کوشش کی جائے کوئی خدا کو مانے یا نہ مانے مگر فطرتِ صحیحہ کی مخالفت کبھی اچھا نتیجہ پیدا نہیں کرتی۔یہ وقت سنجیدگی سے اس امر پر غور کرنے کا ہے کہ کس طرح ہمارا ملک آزاد ہو سکتا ہے اور کس طرح ہر قوم خوش رہ سکتی ہے۔اگر ایسا نہ ہوا تو ہم صرف قید خانہ بدلنے والے ہوں گے۔میں نے اس مخلصانہ مشورہ میں صرف اشارات سے کام لیا ہے اگر مجھے مزید وضاحت کی ضرورت ہوئی تو ملامت کرنے والوں کی ملامت سے بے پرواہ ہو کر میں اِنشَاءَ اللہ اپنا مخلصانہ مشورہ مشن یا پبلک کے اس حصہ کے آگے پیش کروں گا جو سننے کے لئے کان اور سوچنے کے لئے دماغ رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پارلیمینٹری وفد کو بھی اور ہندو مسلمان اور دوسری اقوام کے نمائندوں کو بھی صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق بخشے۔آمین خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان ۵-۴-۱۹۴۶ء