انوارالعلوم (جلد 18) — Page 302
انوار العلوم جلد ۱۸ پارلیمینٹری مشن اور ہندوستانیوں کا فرض ہندوستان کے نمائندوں سے کہنا چاہتا ہوں۔وفد کے ممبران کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا کا فسا دسب سے زیادہ اس امر سے ترقی کر رہا ہے کہ حکومتیں اخلاقی اصول کی پیروی سیاسیات میں ضروری نہیں سمجھتیں حالانکہ سیاست افراد کو تسلی دینے کے لئے برقی جاتی ہے اور افراد جو اخلاق کی بناء پر سوچنے اور غور کرنے کے عادی ہیں جب ایک فیصلہ ایسا دیکھتے ہیں کہ جس کی بنیا د عام جانے بوجھے ہوئے اخلاقی نظریات کے خلاف ہوتی ہے تو وہ اس سے تسلی نہیں پاتے اور ان کی دل کی خلش انہیں شورش اور فساد پر آمادہ کر دیتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قومی امیدوں اور اُمنگوں کے پورا نہ ہونے پر بھی شورش ہوتی ہے لیکن وہ شورش دیر پا نہیں ہوتی اور اس کا ازالہ کرناممکن ہوتا ہے لیکن اخلاقی اصول کے خلاف کیا گیا فیصلہ سینکڑوں اور ہزاروں سال تک فساد اور بے چینی کو لمبا کئے جاتا ہے۔پس انہیں چاہیئے کہ ہندوستان کی اُلجھنوں کا حل صرف سیاست کی مدد سے کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ اخلاق کے اصول کے مطابق اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں تا اگر اس حل سے کوئی فساد پیدا ہوتو وہ دیر پا نہ ہو۔دوسرے اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی وعدے حالات کے بدلنے سے بدل سکتے ہیں۔مثلاً ایک گورنمنٹ سے کسی دوسری گورنمنٹ کا کوئی معاہدہ ہولیکن بعد میں اس ملک کی اکثریت اپنی گورنمنٹ کے خلاف ہو جائے تو معاہد حکومت یقیناً پابند نہیں کہ اول الذکر حکومت کا ان حالات میں بھی ساتھ دے کیونکہ معاہدہ اس امر کی فرضیت پر مبنی تھا کہ وہ حکومت اپنے ملک کی نمائندہ ہے جب وہ نمائندہ نہ رہے تو معاہد حکومت کا حق ہے کہ اپنے سابق معاہدہ کو تبدیل کر دے جیسا کہ پولینڈ کی حکومت کے بارہ میں انگلستان نے کیا۔(اس امر کو میں نظر انداز کرتا ہوں کہ انگلستان نے پوری تحقیق اس امر کی کر لی تھی کہ نہیں ، کہ پولینڈ کی اکثریت سابق حکومت کے ساتھ ہے یا خاص حالات پیدا کر کے اس سے خلاف رائے لے لی گئی ہے ) لیکن اگر حالات وہی ہوں جیسے کہ پہلے تھے تو پھر یہ کہہ کر سابق وعدہ کو نظر انداز کر دینا کہ حالات بدلنے پر وعدے بھی بدل سکتے ہیں اخلاق کے خلاف ہوگا۔حکومت انگریزی کو اپنے سابق وعدوں میں کسی تبدیلی سے پہلے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ وہ کون سے حالات تھے جن میں کوئی وعدہ انہوں