انوارالعلوم (جلد 18) — Page 301
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۰۱ پارلیمینٹری مشن اور ہندوستانیوں کا فرض اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ پارلیمینٹری مشن اور ہندوستانیوں کا فرض ( رقم فرموده ۱۷۵ پریل ۱۹۴۶ء) پارلیمینٹری وفد ہندوستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے ہندوستان میں وارد ہو چکا ہے مجھ سے کئی احمدیوں نے پوچھا ہے کہ احمدیوں کو ان کے خیالات کے اظہار کا موقع کیوں نہیں دیا گیا ؟ میں نے اس کا جواب ان احمدیوں کو یہ دیا کہ :۔اوّل تو ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے ( گومسیحیوں کی انجمن کو کمیشن نے اپنے خیالات کے اظہار کی دعوت دی ہے ) دوسرے جہاں تک سیاسیات کا تعلق ہے جو حال دوسرے مسلمانوں کا ہوگا وہی ہمارا ہوگا۔تیسرے ہم ایک چھوٹی اقلیت ہیں اور پارلیمینٹری وفد اس وقت اُن سے بات کر رہا ہے جو ہندوستان کے مستقبل کو بنا یا بگاڑ سکتے ہیں۔دنیوی نقطۂ نگاہ سے ہم ان جماعتوں میں سے نہیں ہیں اس لئے باوجود اس امر کے کہ جنگی سرگرمیوں کے لحاظ سے اپنی نسبت آبادی کے مد نظر ہم تمام دوسری جماعتوں سے زیادہ قربانی کرنے والے تھے کمیشن کے نقطہ نگاہ سے ہمیں کوئی اہمیت حاصل نہیں۔چوتھے یہ کہ خواہ کمیشن کے سامنے ہمارے آدمی پیش ہوں یا نہ ہوں ہم اپنے خیالات تحریر کے ذریعہ سے ہر وقت پیش کر سکتے ہیں۔سو جواب کے آخری حصہ کے مطابق میں چند باتیں پہلی قسط کے طور پر پارلیمینٹری وفد اور