انوارالعلوم (جلد 18) — Page 289
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۸۹ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد تھا کہ بگولا اُٹھا اور وہ اس کی لپیٹ میں اُڑتے اڑتے کسی شہر کے پاس آ گرا۔اس شہر میں ایک نیم پاگل بادشاہ رہا کرتا تھا اور اُس کی ایک خوبصورت لڑکی تھی کئی شہزادوں نے رشتہ کی درخواست کی مگر اس نے سب درخواستوں کو رد کر دیا اور کہا کہ میں اپنی لڑکی کی شادی کسی فرشتہ سے کروں گا جو آسمان سے اُترے گا کسی اور کو رشتہ دینے کے لئے تیار نہیں۔جوں جوں دن گزرتے گئے لڑکی کی عمر بھی بڑی ہوتی گئی ایک دن وہ جو لا ہا بگولے کی لپیٹ میں جو اُس شہر کے قریب آ کر ننگ دھڑنگ گرا تو لوگ دوڑتے ہوئے بادشاہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ حضور ! آسمان سے فرشتہ آ گیا ہے اب اپنی لڑکی کی شادی کر دیں۔بادشاہ نے اپنی لڑکی کی جولا ہے سے شادی کر دی وہ پہاڑی آدمی تھا نرم نرم گدیلوں اور اعلیٰ اعلیٰ کھانوں کو وہ کیا جانتا تھا اُسے تو سب سے بہتر یہی نظر آتا تھا کہ زمین پر ننگے بدن سوئے اور روکھی سوکھی روٹی کھا لے مگر جب با دشاہ کا داماد بنا تو اُس کی خاطر تواضع بڑھنے لگی نوکر کبھی اس کے لئے پلاؤ پکائیں کبھی زردہ پکائیں، کبھی مرغا تیار کریں ، پھر جب بستر پر لیے تو نیچے بھی گدے ہوتے اور او پر بھی اور کئی خادم اسے دبانے لگ جاتے۔کچھ عرصہ کے بعد وہ اپنی ماں سے ملنے کے لئے آیا ماں نے اُسے دیکھا تو گلے سے چمٹالیا اور رونے لگی کہ معلوم نہیں اتنے عرصہ میں اس پر کیا کیا مصیبتیں آئی ہوں گی۔جولاہا بھی چیخیں مار مار کر رونے لگ گیا اور کہنے لگا اماں ! میں تو بڑی مصیبت میں مبتلا رہا ایک ایک دن گزارنا میرے لئے مشکل تھا کوئی ایک تکلیف ہو تو بیان کروں میرے تو پور پور میں دکھ بھرا ہوا ہے۔اماں! کیا بتاؤں مجھے صبح شام لوگ کیڑے پکا کر کھلاتے (چاول جو اسے کھانے کے لئے دیئے جاتے تھے اُن کا نام اُس نے کیڑے رکھ دیا) پھر وہ نیچے بھی روٹی رکھ دیتے اور او پر بھی اور مجھے مارنے لگ جاتے یعنی دبانے کو اُس نے مارنا قرار دیا اس طرح ایک ایک کر کے اُس نے سارے انعامات گنانے شروع کئے۔ماں نے یہ سنا تو چیخیں مار کر رونے لگ گئی اور کہنے لگی ہے بت تجھ پہ یہ یہ دُکھ یعنی اتنی چھوٹی سی جان اور یہ یہ مصیبتیں۔یہی حال بعض واقفین کا ہے کہ جماعتیں ان کو گلے لپٹاتی ہیں سینہ سے لگاتی ہیں اور کہتی ہیں ” ہے بُت تجھ پہ یہ یہ دُکھے “۔بہر حال ہمیں واقف چاہئیں مگر بُزدل اور پاگل واقف نہیں بلکہ وہ ہر قسم کے شدائد کو خوشی کے ساتھ برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں جہاں واقفین میں سے اس حصہ کی مذمت کرتا دو