انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 288

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۸۸ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد کے لئے بھی تیار ہو؟ وہ کہتے ہیں ہم ماریں کھانے کے لئے بھی تیار ہیں۔غرض یہ سبق انہیں خوب یاد کرایا جاتا اور بار بار ان کے سامنے دُہرایا جاتا ہے۔اس کے بعد جب ہم سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سبق ان کو خوب یاد ہو چکا ہوگا تو ہم کہتے ہیں جاؤ سندھ میں جو سلسلہ کی زمینیں ہیں اُن پر کام کرو منشی کا کام تمہارے سپرد کیا جاتا ہے جاتے ہیں تو تیسرے دن مینیجر کی طرف سے تار آجاتا ہے کہ منشی صاحب بھاگ گئے ہیں کیونکہ وہ کہتے تھے میرا دل یہاں نہیں لگتا۔کوئی ایک مثال ہو تو اُسے برداشت کیا جائے ، دو مثالیں ہوں تو انہیں برداشت کیا جائے مگر ایسی کئی مثالیں ہیں کہ بعض نوجوانوں نے ہر قسم کی تکالیف برداشت کرنے کا عہد کرتے ہوئے اپنی زندگیاں وقف کیں مگر جب اُن کو سلسلہ کے کسی کام پر مقرر کیا گیا تو بھاگ گئے محض اس لئے کہ تکالیف ان سے برداشت نہیں ہو سکتیں۔اس قسم کے مواد کو لے کر کوئی جرنیل کیا لڑسکتا ہے۔آدمی کو کم از کم یہ تو تسلی ہونی چاہئے کہ میں بھی جان دینے کے لئے تیار ہوں اور میرا ساتھی بھی خدا تعالیٰ کے دین کے لئے اپنی جان دینے کے لئے تیار بیٹھا ہے مگر یہاں یہ حالت ہے کہ بعض نوجوان اپنی زندگی وقف کرتے ہیں اور پھر ذرا سی محنت اور ذرا سی تکلیف پر کام چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں اور جب ان میں سے کسی کو سرزنش کی جاتی ہے تو جماعتیں اُس کو اپنے گلے سے لپٹا لیتی ہیں اور لکھتی ہیں کہ آپ کو اس کے متعلق کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ورنہ یہ آدمی بڑا مخلص ہے اور سلسلہ کے لئے بڑی قربانی کرنے والا ہے۔حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ جب ایسا شخص وا پس آتا تو بیوی اپنے دروازے بند کر لیتی اور کہتی کہ میں تمہاری شکل دیکھنے کے لئے تیار نہیں ، بچے اُس سے منہ پھیر لیتے اور کہتے کہ تم دین سے غداری کا ارتکاب کر کے آئے ہو ہم تم سے ملنے کے لئے تیار نہیں ، دوست اُس سے منہ موڑ لیتے کہ ہم تم سے دوستی رکھنے کے لئے تیار نہیں تم نے تو موت تک اپنی زندگی سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کی تھی اب تم خود واپس نہیں آسکتے تمہاری روح ہی آسکتی ہے مگر روح بھی یہاں نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ کے حضور جائے گی اس لئے تمہارا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں مگر بعض جماعتیں ایسے لوگوں کو بڑے پیار سے اپنے گلے لگاتی اور سینہ سے چمٹانے لگ جاتی ہیں۔ہم جب بچے تھے تو حضرت اماں جان ہمیں کہانی سنایا کرتیں تھیں کہ ایک جولاہا کہیں کھڑا