انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 286

۲۸۶ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد انوارالعلوم جلد ۱۸ جماعت کی طاقت اور اس کی قوت میں بھی اضافہ ہوگا۔پس میں جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ فوراً اس قسم کے نقشے پر کر کے نظارت میں بھجوائیں کہ ہر جماعت میں پانچ سے بیس سال تک کی عمر کے کتنے لڑکے ہیں؟ ان میں سے کتنے پڑھتے ہیں اور کتنے نہیں پڑھتے۔اور جو پڑھتے ہیں وہ کون کونسی جماعت میں پڑھتے ہیں، پھر جو نہیں پڑھتے ان کے والدین کو تحریک کی جائے کہ وہ انہیں تعلیم دلوائیں اور کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ لڑکے سکولوں میں تعلیم حاصل کریں اور ہائی سکولوں میں پاس ہونے والے لڑکوں میں سے جن کے والدین صاحب استطاعت ہوں ان کو تحریک کی جائے کہ وہ انہیں یہاں کالج میں پڑھنے کے لئے بھیجیں تا کہ ہماری جماعت ڈ نیوی تعلیم کے لحاظ سے بھی دوسروں پر فوقیت رکھنے والی ہو۔تیسری تحریک جو کچھ عرصہ سے میں جماعت کو کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کو اب تجارت کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔میں نے بارہا بتایا ہے کہ تجارت ایسی چیز ہے کہ اس کے ذریعہ دنیا میں بہت بڑا اثر و رسوخ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ہمارے دو نوجوان افریقہ گئے ایک کو ہم نے کہا کہ تمہیں خرچ کے لئے ہم ۲۵ روپے ماہوار دیں گے مگر دوسرے سے ہم نے کہا کہ تمہارے اخراجات برداشت کرنے کی ہمیں توفیق نہیں۔اس نے کہا تو فیق کا کیا سوال ہے میں خود محنت مزدوری کر کے اپنے لئے روپیہ پیدا کروں گا سلسلہ پر کوئی بار ڈالنے کے لئے تیار نہیں۔ہم نے کہا یہ تو بہت مبارک خیال ہے اگر ایسے نوجوان ہمیں میسر آجائیں تو اور کیا چاہئے چنانچہ وہ دونوں گئے اور انہوں نے پندرہ روپیہ چندہ ڈال کر تجارت شروع کی اب ایک تازہ خط سے معلوم ہوا ہے کہ وہی نوجوان جنہوں نے پندرہ روپے سے تجارت شروع کی تھی اب تک ایک ہزار روپیہ تبلیغی اخراجات کے لئے چندہ دے چکے ہیں اور اپنا گزارہ بھی اتنی مدت سے عمدگی کے ساتھ کرتے آ رہے ہیں۔اس کے علاوہ مقامی مشن کے ذمہ ان کا چالیس پونڈ کے قریب قرض بھی ہے جو انہوں نے اپنی تجارت کے نفع سے دیا۔انہوں نے لکھا ہے کہ ہم اس سے بھی زیادہ روپیہ کما لیتے مگر چونکہ گورنمنٹ نے مال کی درآمد و برآمد پر کئی قسم کی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں اس لئے ہم زیادہ روپیہ کما نہیں سکے ورنہ اس قسم کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں کہ اس ملک میں بعض نوجوان ہزار ہزار دو دو ہزار روپیہ کے ساتھ آئے اور اب وہ لاکھ لاکھ