انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 285

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۸۵ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد سے ہمیں فائدہ اُٹھانا چاہئے اب ہم ویسے ہی مقام پر کھڑے ہیں جیسے قصہ مشہور ہے کہ پرانے زمانہ میں ایک دیوار قہقہہ ہوا کرتی تھی جو بھی اُس پر چڑھ کر دوسری طرف جھانکتا وہ قہقہ لگاتے ہوئے اُسی طرف چلا جاتا واپس آنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ہم بھی اس وقت ایک دیوار قہقہہ کے نیچے کھڑے ہیں جو شخص جرات کر کے اس دیوار کی دوسری طرف جھانکے گا اس کا دل دنیا سے ایسا سرد ہو جائے گا کہ پھر واپس لوٹنے کا نام نہیں لے گا اور کا میابی ہمارے قدم چوم لے گی۔الفضل ربوہ جلسہ سالانہ نمبر ۱۹۶۰ء) کچھ عرصہ ہوا میں نے جماعت کے دوستوں کو بعض تحریکات کی تھیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ ان پر عمل کئے بغیر جماعت گلی طور پر کبھی ترقی نہیں کر سکتی مگر افسوس ہے کہ جماعت نے ان کی طرف پوری توجہ نہیں کی اب میں پھر دوستوں کو ان تحریکات کی طرف توجہ لانا چاہتا ہوں۔ان میں سے ایک تحریک تو یہ ہے کہ ہر جگہ قرآن کریم کے درس جاری کئے جائیں اور کوشش کی جائے کہ جماعت کا ہر فرد قرآن کریم کا ترجمہ جانتا ہو۔خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دونوں کا یہ کام ہے کہ وہ جماعت کی نگرانی رکھیں اور دیکھیں کہ ان میں سے کون کون لوگ قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتے۔پھر جو لوگ ایسے ہوں ان کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھایا جائے اور اس بارہ میں اس قدر تعہد سے کام لیا جائے کہ جماعت کا کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے جو قرآن کریم کا ترجمہ نہ جانتا ہو اور جو لوگ قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہوں ان کے متعلق کوشش کرنی چاہئے کہ انہیں دوسرے علوم سے واقفیت پیدا ہو۔پھر میں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ چونکہ دنیوی تعلیم بھی نہایت اہم چیز ہے اس لئے جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے افراد کا جائزہ لے اور کوشش کرے کہ جماعت کا کوئی لڑکا ایسا نہ ہو جو کم از کم پرائمری پاس نہ ہو، پھر جولڑ کے پرائمری پاس ہوں اُن کے متعلق کوشش کرنی چاہئے کہ وہ مڈل تک تعلیم حاصل کریں، جن کی تعلیم مڈل تک ہے اُن کے متعلق کوشش کریں کہ وہ انٹرنس پاس کریں اور جولڑ کے انٹرنس پاس ہیں ان کے متعلق کوشش کریں کہ وہ کالج میں داخل ہوں اور ایف۔اے یا بی۔اے پاس کریں۔غرض تعلیم کو ترقی دینا ہماری جماعت کا اہم ترین فرض ہے۔اس طرح ایک طرف تو خود ان کے ایمان میں مضبوطی پیدا ہوگی اور دوسری طرف