انوارالعلوم (جلد 18) — Page 273
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۷۳ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد کے تمام اولیاء خبر دیتے چلے آئے ہیں ، جس شخص کے آنے کی گزشتہ انبیا ء تک نے خبریں دی ہیں اور جس شخص کے آنے کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا آنا قرار دیا ہے اگر اُس نے بھی دنیا کے مقابلہ میں ہار جانا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہار گئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً ہار نہیں سکتے اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہار نہیں سکتے تو آپ کا مثیل کیسے ہار سکتا ہے۔پس ہم نے یقیناً جیتنا ہے مگر ہم کس طرح جیتیں گے؟ یہ بھی عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے کیونکہ فتح اور غلبہ کے حصول کے لئے جس انتہائی اخلاص اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہ تمام و کمال ابھی ہمارے پاس نہیں یا اگر ہے تو جماعت کے افراد اس سے پوری طرح کام نہیں لیتے۔ہماری جماعت میں بے شک قربانی کی بہت بڑی روح پائی جاتی ہے اور یہ قربانی اور ایثار کا مادہ اس حد تک ہماری جماعت میں پایا جاتا ہے کہ جب میں اپنی جماعت کی بعض قسم کی قربانیوں کو دیکھتا ہوں یا جب میں اپنی جماعت کے بعض افراد کی قربانیوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے حیرت آتی ہے کہ ایسے مواد کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے میں کیوں دیر ہو رہی ہے اور کیوں ہماری جماعت کوموجودہ حالت سے بہت بڑھ کر ترقی حاصل نہیں ہوتی۔لیکن جب میں اپنی جماعت کے کمزور طبقہ پر اپنی نگاہ دوڑا تا ہوں اور قومی کاموں میں اس کی کمزوری اور غفلت کا مشاہدہ کرتا ہوں تو مجھے حیرت آتی ہے کہ جماعت کو وہ ترقی ملی کیوں جو اسے حاصل ہے۔گویا میری حالت بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسے آئینہ خانہ میں جانے والے کی ہوتی ہے۔جس طرح وہ حیران و پریشان سا ہو جاتا ہے اسی طرح میں بھی جب جماعت کے بعض لوگوں کی یا تمام جماعت کی بعض قسم کی قربانیوں کو دیکھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اس ایثار اور قربانی کے باوجود ہماری جماعت نے کیوں موجودہ حالت سے بہت زیادہ ترقی نہیں کی اور کیوں الہی مدد اور اس کی نصرت کے نزول میں دیر ہو رہی ہے؟ لیکن جب میں بعض لوگوں کی کمی اخلاق اور ان سے ناقص اعمال کو دیکھتا ہوں اور دینی معاملات میں ان کی غفلت اور کوتاہی پر نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اس قسم کے کمزور طبقہ کے ہوتے ہوئے ہماری جماعت کو جو ترقی ہوئی ہے وہ کیسے ہوئی ہے۔بہر حال خواہ کمزور طبقہ کی کمزوری اور اس کی غفلت جماعت کیلئے کس قدر اندوہناک ہو یہ یقینی اور قطعی امر