انوارالعلوم (جلد 18) — Page 272
۲۷۲ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد انوارالعلوم جلد ۱۸ کے حق میں موجود ہوتی ہے۔یہ نہیں کہ ہم اپنے پاس سے وہ باتیں بتاتے ہیں ہم جو کچھ مال پیش کرتے ہیں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی مال ہوتا ہے مگر بہر حال ہر زمانہ کے مفاسد کے لحاظ سے پرانی باتوں کو نئے الفاظ میں پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ دشمن اپنے اعتراضات کی کمزوری سے واقف ہو کر شرمندہ ہو اور چونکہ اعتراضات ہمیشہ بدلتے چلے جاتے ہیں اور کوئی ایک شخص تمام باتیں پورے طور پر نہیں بتا سکتا اس لئے اصل چیز جس کی طرف ایک مؤمن کو ہمیشہ توجہ رکھنی چاہئے یہ ہے کہ اس کا اللہ تعالیٰ سے براہِ راست تعلق پیدا ہو جائے تا کہ اللہ تعالیٰ خود اپنے پاس سے اسے علم سکھائے دوسرے انسانوں کی احتیاج جاتی رہے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی جماعت زندہ نہیں رہ سکتی اور کوئی جماعت کا میاب طور پر اپنے فرائض کو ایک لمبے عرصہ تک ادا نہیں کر سکتی جب تک اُس کے افراد میں یہ تڑپ نہ ہو کہ ہمارا خدا تعالیٰ سے ایسا مضبوط تعلق ہو جائے کہ خدا کا پیار ہمیں حاصل ہو ، ہم اس کے نام پر فدا ہونے والے ہوں اور وہ ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہو۔جب تک یہ تعلق مضبوط سے مضبوط تر نہ ہوتا چلا جائے اور محبت الہی اپنے کمال کو نہ پہنچ جائے اُس وقت تک کوئی انسان تنزل محفوظ نہیں رہ سکتا۔نجات اسی کے لئے ہے جس نے اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کی اور پھر اس محبت کو اس حد تک بڑھایا کہ اس کے رگ وریشہ میں اس کا اثر سرایت کر گیا۔دوسری بات جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ تمہیں اس بات پر کامل یقین اور ایمان رکھنا چاہئے کہ خواہ دنیا تمہاری کس قدر مخالفت کرے اور تمہاری کامیابی کے راستہ میں کس قدر روڑے اٹکائے تم نے بہر حال جیتنا ہے۔اگر تم میں سے کسی شخص کے دل میں یہ وسوسہ ہے کہ اس نے نہیں جیتنا تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ بھی اسے احمدی نہیں سمجھتا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسے احمدی نہیں سمجھتے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسے احمدی نہیں سمجھتے اور میں بھی اسے احمدی نہیں سمجھتا۔جس شخص کے دل میں ایک لمحہ کے لئے بھی یہ وسوسہ پیدا ہو جائے کہ ہم دنیا کے مقابلہ میں ہار جائیں گے ، دنیا جیت جائے گی اور ہم اپنے مقصد میں ناکام رہیں گے وہ ہرگز احمدی نہیں اور اس نے قطعاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد اور اس کی بعثت کی غرض کو نہیں سمجھا۔جس شخص کے آنے کی امت محمدیہ