انوارالعلوم (جلد 18) — Page 249
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۴۹ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں ہوں کہ یا میں پاگل ہو جاتا اور یا پھر اپنے ہاتھ سے اپنے بیوی بچوں کو مار کر اپنے آپ کو مار ڈالتا کیونکہ میرے نزدیک اس قسم کی زندگی کو ایک لمحہ کیلئے بھی برداشت کرنا کسی خبیث اور بے ایمان آدمی کے سوا کسی کا کام نہیں ہو سکتا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات ہے جس نے ہمارے دل میں ایک نئی اُمنگ پیدا کر دی ہے۔آج وہ کرن دُور ہے اور شعائیں فاصلہ پر نظر آتی ہیں مگر بہر حال کھڑ کی کھلی نظر آتی ہے اور پتہ لگتا ہے کہ ہم کسی نہ کسی دن اُس مقام پر پہنچیں گے۔جس طرح اسلام کے دشمنوں نے اسلام کو گھٹنوں کے بل گرانے کی کوشش کی اور ناک رگڑوانا چاہا ہم انشاء اللہ ان کو گھٹنوں کے بل گرائیں گے اور ناک رگڑ وائیں گے۔مگر ناک رگڑ وانے سے مراد یہ نہیں کہ ہم ظاہری رنگ میں ایسا کریں گے بلکہ معنوی رنگ میں ہم ان سے ایسا سلوک کریں گے جو گھٹنے ٹیکنے اور ناک رگڑنے کا مترادف ہوگا۔دیکھو! جب مکہ فتح ہوا تو اُس وقت ظاہری طور پر کسی نے ناک نہیں رگڑ وائے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو یہی کہا کہ تم ہمارے بھائی ہو ہم تمہیں معاف کرتے ہیں مگر معنوی طور پر ان کے ناک رگڑے گئے۔جس شخص کے قتل کے کوئی درپے ہو اور اس کے ساتھ اتنی دشمنی کی گئی ہو کہ اس حالت میں کہ اُس کی لڑکی حاملہ ہونے کی صورت میں اکیلی سفر کر رہی ہو، اُس کے اونٹ کے شغدف کا بند کاٹ کر اُسے گرا دیا ہو اور اِس طرح اُس کا حمل ضائع کروا دیا ہو جب وہ اُس کے سامنے آئیں اور اُن سے پوچھا جائے کہ بتاؤ تم سے کیا سلوک کیا جائے؟ اور وہ کہیں ہم تم سے یوست والے سلوک کی امید رکھتے ہیں اور وہ کہہ دے تم سے پوسٹ والا سلوک ہی کیا جائے گا اور تمہیں معاف کیا جائے گا۔تو بتاؤ ان مخالفین کی کیا حالت ہوگی۔میں تو سمجھتا ہوں کہ ایسے واقعہ سے دل پر ایسی چوٹ لگتی ہے کہ اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔بظاہر ان کی بے عزتی نہیں کی گئی اور بظاہر ان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی گئی ، بظاہر ان سے ناک نہیں رگڑ وائے گئے مگر معنوی طور پر ان کے ناک رگڑے گئے اور ان کے سر جھکائے گئے اور وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مُردہ ہو گئے۔میں نے کئی دفعہ ایک واقعہ سنایا ہے۔بچپن کی بات ہے کہ ایک دفعہ میں نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر ایک کشتی خریدی۔اُس وقت وہ کشتی ہمیں ۲۷ روپے میں مل گئی جو کہ اُس وقت