انوارالعلوم (جلد 18) — Page 248
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۴۸ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں آرام سے کٹ گیا مگر ہم نے راستہ میں ایک عجیب تمسخر سنا۔ایک عورت خلیفہ کو آوازیں دے رہی تھی اور مدد کے لئے بلا رہی تھی۔اُس بے چاری کو کیا پتہ کہ اس جگہ اب اُس کی حکومت ہی نہیں۔یہ باتیں سننے والوں میں سے ایک درباری بھی تھا وہ دربار میں آیا اور بادشاہ سے اِس کا ذکر کیا اُس نے کہا آج ایک عجیب بات ہوئی ہے ایک قافلہ فلاں جگہ سے آیا اور اُس نے سنایا کہ ایک عورت خلیفہ کو پکارتی تھی۔اگر چہ بادشاہت تو اُس وقت تباہ ہو چکی تھی اور خلافت مٹ چکی تھی مگر معلوم ہوتا ہے ابھی اسلامی ایمان کی کوئی چنگاری باقی تھی۔خلیفہ میں کوئی طاقت نہ تھی وہ جانتا تھا کہ میں اکیلا ہوں لیکن جب اُس نے یہ بات سنی تو تخت سے اتر آیا اور ننگے پاؤں چلا اور کہا کہ گواب خلیفہ کا وہ اقتدار نہیں رہا مگر بہر حال اُس نے خلافت کو آواز دی ہے اب میرا فرض ہے کہ میں اُس کے پاس جاؤں اور اُس کی مدد کروں۔یہ بات ایسی ہے کہ آج یہاں بیٹھے ہوئے ہمارا خون کھول جاتا ہے اُس زمانہ میں کیوں نہ کھولا ہوگا۔جو نہی یہ بات دوسرے بادشاہوں نے سنی اُنہوں نے خلیفہ کو یہ اطلاع بھیجی کہ ہم مدد دیں گے آپ اُس عورت کو آزاد کرائیں اور اُن سے اِس کا بدلہ لیں۔چنانچہ وہ گئے اور اُنہوں نے اُس عورت کو آزاد کرایا اور عیسائیوں سے اُس کا بدلہ لیا۔لیکن آج بڑی بڑی مسلمان شخصیتوں کا سوال ہی نہیں رہا اب تو بڑی بڑی مسلمان حکومتیں بھی ریاستوں سے بالا نہیں۔سب سے بڑی حکومت مسلمانوں کی اس وقت ترکی کی حکومت ہے مگر اس کی حالت یہ ہے کہ جب روس کوئی بات کرتا ہے تو وہ کھسیانہ ہو کر کبھی انگریزوں اور کبھی امریکہ کی طرف دیکھتا ہے اور دیکھ کر سوچتا ہے کہ آیا بھیکی دوں یا سکی بھروں۔اگر دیکھے کہ وہ ہماری طرف مہربانی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تو سسکیاں مار کر رونے لگ جاتا ہے اور اگر سمجھتا ہے کہ مدد کریں گے تو پھر ان کو بھبھکیاں دیتا ہے۔ہر ایک کے اندر جذبات ہوتے ہیں لیکن یہ حالت دیکھ کر بھی کسی مسلمان کی غیرت جوش میں نہیں آتی۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اگر میں احمدی نہ ہوتا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں پرورش نہ پاتا تو میرے کیا اخلاق ہوتے لیکن اگر میرے یہی جذبات ہوتے جو اس وقت ہیں اور احمد بیت والا ایمان میرے اندر نہ ہوتا تو اگر کوئی سو فیصدی سے بھی زیادہ یقین دلانے کا کوئی ذریعہ ہو سکتا ہے تو میں یقین رکھتا