انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 236

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۳۶ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں کونسا ابو جہل آیا جس نے مرزا امام الدین کو یہ باتیں سکھائیں کہ تم باہر سے آنے والوں کو اس طریق سے روکا کرو یہ نسخہ میرا آزمایا ہوا ہے۔یا پھر یہ ماننا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہی باتیں مسمریزم کے ذریعہ مرزا امام الدین سے کہلوالیں ، دونوں میں سے ایک بات ضرور صحیح ہو گی۔لدھیانہ کے ایک دوست نور محمد نامی نومسلم تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بہت محبت و اخلاص رکھتے۔اُنہوں نے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا وہ کہا کرتے تھے کہ بیٹا جب باپ کے پاس جائے تو اسے کچھ نہ کچھ نذ رضرور پیش کرنی چاہئے۔اُن کا مطلب یہ تھا کہ میں مصلح موعود ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا ہوں اور چونکہ وہ اپنے آپ کو خاص بیٹا سمجھتے تھے انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کم سے کم ایک لاکھ روپیہ تو انہیں ضرور پیش کرنا چاہئے۔کہتے ہیں ابھی انہوں نے چالیس پچاس ہزار روپیہ ہی جمع کیا تھا کہ وہ فوت ہو گئے اور نہ معلوم روپیہ کون کھا گیا۔انہوں نے بہت سے چوہڑے مسلمان کئے اور ان سے کہا کرتے تھے کہ کچھ روپیہ جمع کرو پھر تمہیں دادا پیر کے پاس ملاقات کے لئے لے چلوں گا۔کچھ عرصہ کے بعد ان نو مسلموں نے کہا کہ پتہ نہیں کہ آپ کب جائیں گے آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم قادیان ہو آئیں۔اس پر انہوں نے ان نومسلموں کو قادیان آنے کی اجازت دے دی۔وہ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب سیر کے لئے نکلے تو وہ باہر کھڑے ہوئے تھے۔غالباً وہ 9 آدمی تھے اُن میں سے ہر ایک نے ایک ایک اشرفی پیش کی کیونکہ اُن کے پیر نے کہا تھا کہ تم دادا پیر کے پاس جا رہے ہو میں تمہیں اس شرط پر جانے کی اجازت دیتا ہوں کہ تم دادا پیر کے سامنے سونا پیش کرو۔چنانچہ انہوں نے ذکر کیا کہ ہمارے پیر نے ہمیں اس شرط پر آنے کی اجازت دی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک آدمی آپ کی خدمت میں سونا پیش کرے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ وہ سیر کو چلے گئے۔جب سیر سے واپس آئے تو چونکہ اُن کو حقہ پینے کی عادت تھی اس لئے وہ حقہ پینے کے لئے مرزا امام الدین کے پاس چلے گئے۔وہ حقہ پینے کے لئے بیٹھے ہی تھے کہ مرزا امام الدین نے کہنا شروع کیا۔انسان کو کام وہ کرنا چاہئے جس سے اُسے کوئی فائدہ ہو تم جو اتنی دور سے پیدل سفر