انوارالعلوم (جلد 18) — Page 234
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۳۴ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں سے الہام کی گئی ہیں محض باتیں ہی باتیں ہیں ان میں حقیقت کچھ بھی نہیں۔بلکہ یہ قصے آدم اور نوح اور ابراہیم کے منہ سے کہلوا دیئے گئے ہیں۔اگر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ نہ ملا ہوتا اور کوئی اس بات کا ثبوت ہم سے مانگتا تو ہمیں مشکل پیش آتی لیکن اس علم کے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بعینہ وہی باتیں کہی گئیں جو جہالت کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے کہی تھیں اور وہی اعتراض آپ پر کئے گئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں نے آپ پر کئے تھے۔اس سے ہم نے یقین کر لیا اور ہمارے لئے شک کی کوئی گنجائش نہ رہی کہ واقعی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن وہی باتیں کہتے ہونگے جو حضرت آدم ، حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کے دشمن کہتے تھے۔کیونکہ آج ۱۳۰۰ سال کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمن آپ پر وہی اعتراض کرتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آپ کے دشمنوں نے کئے اور ان میں اتنی مطابقت اور مشابہت ہوتی ہے کہ حیرت آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمن جب آپ پر اعتراض کرتے تو آپ فرماتے یہی اعتراض آج سے ۱۳۰۰ سال پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آپ کے مخالفین نے کئے تھے۔جب وہ باتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے قابلِ اعتراض نہ تھیں بلکہ آپ کی صداقت کی دلیل تھیں تو وہ میرے لئے کیوں قابلِ اعتراض بن گئی ہیں۔پس جو جواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا دیا وہی جواب میں تمہیں دیتا ہوں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جواب میں یہ طریق اختیار فرماتے اور لوگوں پر اس طریق سے حُجت قائم کرتے تو مخالفین شور مچاتے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برابری کرتا ہے حالانکہ یہ صاف بات ہے کہ جو اعتراض ابو جہل کرتا تھا جو شخص ان اعتراضوں کو دُہراتا ہے وہ مثیل ابوجہل ہے اور جس شخص پر وہ اعتراض کئے جاتے ہیں وہ مشیل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے۔پس ہر زمانہ میں مومنوں اور کافروں کی پہلے مؤمنوں اور کافروں سے مشابہت ہوتی چلی آئی ہے لیکن دنیا ہمیشہ اس بات کو بھول جاتی ہے اور جب کبھی نیا دور آتا ہے تو نئے سرے سے لوگوں کو یہ سبق دینا پڑتا ہے اور اس اصول کو دنیا کے سامنے دُہرانا پڑتا ہے اور خدا کی طرف