انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 233

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۳۳ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں ( تقریر فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۵ء بر موقع جلسه سالا نه بمقام قادیان ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: انسانی زندگی ایک دور بلکہ چند ادوار کا نام ہے۔ایک دور چل کر ختم ہو جاتا ہے تو ایک اور دور چل پڑتا ہے۔وہ ختم ہوتا ہے تو پھر ایک اور دور ویسا ہی چل پڑتا ہے۔جیسے رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات آتی ہے اسی طرح ایک دور کے بعد دوسرا چلتا چلا جاتا ہے اور الہی منشاء اسی قسم کا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے دور ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں۔اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا اِن ادوار کے لوگ ایک دوسرے کی نقلیں کر رہے ہیں۔مؤمنوں کی باتیں ویسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے پہلے مومنوں کی اور کافروں کی باتیں ویسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسی پہلے کافروں کی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حیرت کا اظہار فرماتا ہے کہ آتوَاصَوْا بِهِ بَلْ هُمْ قَوْم طَاغُونَ اِ ان کا فروں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ وہی باتیں کہتے ہیں جو پہلے نبیوں کو ان کے نہ ماننے والوں نے کہیں اور کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جونئی ہو اور پہلے انبیاء کو ان کے مخالفوں نے نہ کہی ہو۔عیسائی اور یہودی مصنفین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہمیں کیا علم ہے کہ پہلے انبیاء کے دشمنوں نے وہی اعتراض اپنے وقت کے نبیوں پر کئے تھے یا نہیں جو محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر کئے گئے اور ہمارے پاس کیا ثبوت ہے اس بات کا جو محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کہی کہ مجھے یہ الہام ہوا ہے کہ آدم کے دشمنوں نے بھی یہی اعتراض کئے تھے ، نوح کے دشمنوں نے بھی یہی اعتراض کئے تھے، ابراہیم کے دشمنوں نے بھی یہی اعتراض کئے تھے۔یہ کہنا کہ یہ خبریں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف