انوارالعلوم (جلد 18) — Page 227
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۲۷ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور رڈی چیز کو کم قیمت پر بیچ دیتے ہیں اور چونکہ مال لینے والے بھی ہندوستانی ہوتے ہیں وہ بھی ستا مال دیکھ کر خرید لیتے ہیں۔اگر ایک چیز کارخانہ سے ایک روپیہ پر نکلتی ہے اور بازار میں ڈیڑھ روپیہ کی بکتی ہے تو رڈی مال لینے والے دُکاندار بجائے اس کے کہ آٹھ آنے کی چیز ایک روپے میں بچیں وہ ڈیڑھ روپے میں بیچتے ہیں اور اس طرح دوسرے لوگوں کو بھی دھو کے میں رکھتے ہیں کہ یہ اصل سٹینڈرڈ والی چیز ہے اور جب معلوم ہوتا ہے کہ وہ چیز خراب ہے تو وہ دکاندار کے پاس شکوہ کرتے ہیں اور دُکاندار کہتا ہے میں کیا کروں میں نے تو فلاں فرم کو آرڈر دے کر منگوائی تھی اس طرح کا رخانہ والوں کی بدنامی ہوتی ہے۔انگریزوں میں یہ بڑی خوبی ہے کہ وہ ہر چیز کے معیار کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔میر مہدی حسن صاحب بھی اس طرز کے آدمی تھے۔میر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں چھپوائی کے انچارج تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کسی کتاب کی کاپی چھپتی تو وہ بڑے غور سے پڑھتے۔اگر فل سٹاپ بھی غلط جگہ لگا ہوتا تو اُس کا پی کو تلف کر دیتے اور نئی لکھواتے۔اس طرح کام کرنے والے دو چار دن تک جب تک کہ نئی کا پی تیار نہ ہوتی یونہی بیٹھے رہتے۔پھر جب وہ تیار ہوتی تو پھر وہ دیکھتے اور اگر کوئی غلطی دیکھتے تو پھر اسے تلف کر دیتے اور اُس وقت تک کتاب چھپنے نہ دیتے جب تک کہ انہیں یقین نہ آتا کہ اب اس میں کوئی غلطی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دریافت فرماتے کہ اتنی دیر کیوں لگائی۔تو وہ کہتے حضورا بھی پروف میں بڑی غلطیاں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی صاف اور اچھی چیز چاہتے تھے اس لئے آپ کبھی بھی اس بات کا خیال نہ فرماتے کہ مزدور اور کام کرنے والے یونہی بیٹھے ہیں اور مفت کی تنخوا ہیں کھا رہے ہیں بلکہ آپ کی بھی یہ یہی خواہش ہوتی کہ لوگوں کے سامنے اچھی چیز پیش ہو۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ بھی عادت تھی کہ کتاب میں ذرا نقص ہوتا تو اس کو پھاڑ دینا اور فرمانا دوبارہ لکھو۔کاتب نے پھر کتاب لکھنی اور اگر کہیں ذرا بھی نقص ہوتا تو اسے پھاڑ دینا اور جب تک اچھی کتابت نہ ہوتی اُس وقت تک مضمون چھپنے کے لئے نہ دینا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن سے کتابت کرواتے تھے وہ شروع میں تو احمدی نہیں تھے لیکن بعد میں احمدی ہو گئے اُن کا لڑکا بھی احمدی