انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 225

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۲۵ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ دودھ میں پانی ملایا گیا ہے۔وہ آلہ منگوا کر میر صاحب نے شہر میں پھرنا شروع کر دیا اور جس نے بھی دودھ بیچنے کے لئے آنا کہنا کہ دودھ دکھاؤ۔اگر ٹھیک ہوتا تو اس کو کہہ دینا ٹھیک ہے جاؤ اور بیچو اور اگر آلہ نے دودھ کو ناقص بتانا تو ان کو دودھ بیچنے سے منع کر دینا۔یہ ان کا مشغلہ ہو گیا تھا کہ سارا دن ادھر اُدھر پھرنا اور جس کو دیکھنا بلا نا اور آلہ لگانا۔اُس وقت ہسپتال اس چوک میں جہاں پر کہ بک ڈپو ہے ہوتا تھا اور غالباً ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب وہاں کام کرتے تھے۔بہر حال جو بھی تھے انہوں نے ایک شخص کے متعلق کہا کہ آلہ کے ذریعہ ہم نے کئی دفعہ اس کا دودھ دیکھا ہے اور یہ دودھ ٹھیک ہے۔اس لئے دودھ اس سے لیا جائے۔مگر اتفاق ایسا ہوا کہ ایک دفعہ وہی شخص برتن میں سے ایک گڑوی دودھ نکال کر کسی کو دینے لگا تو اس میں سے چھوٹی سی مچھلی کو دکر باہر آ پڑی۔اصل میں وہ ہوشیار آدمی تھا اس نے جب دیکھا کہ یہ آلہ لگاتے ہیں تو اس نے ڈھاب کا پانی ڈالنا شروع کر دیا۔ڈھاب کے پانی میں مٹی ملی ہوئی ہوتی ہے اور مٹی بھاری ہوتی ہے اس لئے پانی کا وزن زیادہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے آلہ اس مقررہ نشان تک پہنچ جاتا اور دھوکا بازی کا پتہ نہ لگتا۔لوگ سمجھتے کہ بڑا دیانتدار ہے کیونکہ آلہ دودھ کے مقررہ نشان تک پہنچ جاتا ہے لیکن ایک دن مچھلی کو دکر باہر آ پڑی تو پھر اُس کی چالا کی کا علم ہوا۔جس قوم میں دھیلے دھیلے اور دمڑی دمڑی کے لئے اتنی دھوکا بازی کی جاتی ہو اور جو قوم دمڑی دمڑی پر اتنی حریص ہو اور جس قوم کے ایسے اخلاق ہوں وہ لوگوں پر کیا رُعب قائم رکھ سکتی ہے۔اسی طرح ہماری جماعت میں اور بھی کئی ایسے اخلاق کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔مثلاً جب میں ڈلہوزی میں تھا ہم ایک گجر سے دودھ لیا کرتے تھے، میرے ملازم نے ایک دن مجھے بتایا کہ وہ دودھ میں پانی ڈالتا ہے۔میں نے اُسے ڈانٹ کر کہا کہ تم اس کے متعلق کیوں بدظنی کرتے ہو؟ مگر بعد میں لوگوں نے مجھے بتایا کہ اس کو دودھ میں پانی ڈالتے ہوئے دیکھا گیا ہے تب مجھے معلوم ہوا کہ بات ٹھیک تھی۔ایک دن تو لطیفہ ہو گیا۔ہمارے مہمان زیادہ ہو گئے اس لئے ہم نے دودھ بجائے سات سیر لینے کے دس سیر لینا شروع کیا۔دوسرے چوتھے دن چند دوست اُس کو پکڑ کر میرے پاس لائے اور کہا کہ ہم نے اس کو دودھ میں پانی ڈالتے دیکھا ہے۔میں نے تحقیقات کروائی تو گوالے نے کہا کہ میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میری بھینس سات سیر