انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 218

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۱۸ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا کوئی جگہ نہیں۔یہ حالت ہے جو انگریزوں نے بنادی ہے۔جس طرف بھی دیکھو یہ قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور کہا یہ جاتا ہے کہ ہم تمہاری حفاظت کے لئے بیٹھے ہیں اپنے کسی فائدہ کے لئے نہیں۔امریکہ کے پریذیڈنٹ جو صلح اور انصاف کے نعرے بلند کرتے ہیں ، اُن کا ایک مضمون چھپا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ہم کسی پر بے جا قبضہ پسند نہیں کرتے لیکن اردگرد کے چھوٹے چھوٹے ملک جن کا اپنے قبضہ میں رکھنا ہماری حفاظت کیلئے ضروری ہے ہم صرف اُن پر قبضہ رکھیں گے۔یہ بات وہی ہے جو یورپین قو میں کہتی ہیں، یہی انگریز کہتے ہیں ، یہی فرانسیسی کہتے ہیں اور یہی جرمن والے کہتے ہیں کہ اگر فلاں فلاں ملک ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو ہماری حفاظت خطرہ میں پڑ جائے گی۔اب انڈونیشیا کے باشندوں نے جو اپنی آزادی کا علم بلند کیا ہے تو فرانسیسیوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ اگر یہ ملک ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو ہم کیا کریں گے اور انگریزی فوجیں ان کی مدد کر رہی ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا دوسروں کو اپنی حفاظت کی ضرورت نہیں؟ آخران بیچاروں کا کیا قصور ہے کہ امریکہ والے ان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور ان سے کونسی ایسی خطا سرزد ہو گئی ہے جس کی بناء پر وہ اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔غرض یہ غاصب خود تو دوسرے ملکوں پر بے جا تصرف کرتے ہیں لیکن جب ان پر حملہ ہوتا ہے تو انصاف انصاف پکارنے لگ جاتے ہیں۔اٹلی والوں نے جب ایبے سینی(ABAY SENIA) پر حملہ کیا اور انگریزوں نے شور مچایا تو گواٹلی والوں نے بھی اس کا جواب دیا مگر جرمنی نے اس کا جو جواب دیا وہ بہت خوب تھا۔اُس نے کہا صرف تم ہی اتنے عرصہ سے دنیا کو مہذب بنانے کی کوشش کر رہے ہو اور ہمیں اس میں شامل نہیں کرتے۔تم اس غرض کے لئے ہندوستان اور دوسرے ممالک پر قبضہ کئے بیٹھے ہو اب ہمیں بھی اس نیک کام میں حصہ لینے دو اور ہمیں بھی دنیا میں تھوڑی سی تہذیب پھیلانے دو۔پس یہ کہہ دینا کہ ہم تمہارے فائدہ کے لئے آئے ہیں نہایت فضول بات ہے تمہیں ان سے کیا۔ہر شخص اپنا فائدہ سمجھتا ہے اگر وہ نہیں سمجھتا تو وہ اپنی تباہی آپ مول لیتا ہے دوسرے کو اس سے کیا تعلق۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے ٹانا والے کسی رئیس کے روپیہ پر اس لئے قبضہ کر لیں کہ وہ شرابی ہے اور اپنا مال صحیح طور پر استعمال نہیں کرتا بلکہ ضائع کرتا ہے اگر وہ ایسا کریں تو کیا کوئی شخص ان کی اس بات کو تسلیم کر لے گا ؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ چونکہ وہ اپنی جائداد شراب نوشی