انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 217

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۷ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے ہم انگریزوں کے نقطۂ نگاہ کو ہی بالفرض تسلیم کر لیں تب بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ جو نسلیں ہیں میں لاکھ سال سے چلی آرہی تھیں اور مسلمانوں کے زمانے میں بھی قائم رہیں وہ یورپین قوموں کے قبضہ میں آتے ہی تباہ ہوگئیں۔یورپین آسٹریلیا میں گئے ،افریقہ میں گئے جہاں بھی گئے وہاں کی اصلی قومیں غائب ہونی شروع ہوگئیں۔صاف ظاہر ہے کہ جب وہاں کے اصلی باشندوں کی زمینوں پر قبضہ کر لیا گیا، حکومت سے انہیں علیحدہ کر کے بے دخل کر دیا گیا اور اپنا غلام بنا لیا گیا تو انہیں زندگی کے ساتھ دلچسپی نہ رہی اور جب کسی انسان کو زندگی سے دلچسپی نہ رہے تو وہ زندہ رہنے کی خواہش ہی نہیں کرتا۔سمجھتا ہے کہ جب کسی چیز میں میرا دخل ہی نہیں تو میں نے زندہ رہ کر کیا کرنا ہے اس طرح وہ قومیں جو بے دخل ہو جاتیں ہیں خود بخو دفنا ہو جاتی ہیں۔ایک عربی شاعر کے کچھ شعر ہیں جو مجھ کو یا دتو نہیں لیکن وہ شعر تا ریخی ہیں اور اُس نے بہت دردناک پیرائے میں بیان کئے ہیں۔جب گذشتہ جنگ ختم ہوئی اور اتحادی ملکوں میں فتح کی خوشیاں منائی گئیں تو اس نے کچھ شعر کہے جن کا مفہوم یہ ہے کہ اتحادیوں نے جنگ فتح کر لی ہے اور لوگ خوش خوش گھروں کو آ رہے ہیں وہ آئیں گے اور خوشیاں منائیں گے۔پراے میرے بھائی! تو اُن کی خوشی میں شامل نہ ہونا کیونکہ یورپین تو اپنے گھروں کو خوشیاں منانے آ رہے ہیں پر تیرا کونسا گھر ہے جہاں تو آ کر خوشیاں منائے گا۔ہاں تیرا گھر تھا لیکن وہاں پر تو غیروں نے قبضہ کر لیا ہے اب تیرے پاس کچھ نہیں۔فلسطین تیرا گھر تھا لیکن اب نہیں کیونکہ فلسطین پر تو غیروں کا قبضہ ہے۔وہ لوگ آئیں گے اور خوشیاں منائیں گے اس لئے کہ اُن کے لئے دنیا میں رہنے کے لئے جگہ ہے لیکن تیرے پاس کونسی جگہ ہے۔ان کے پاس تجارت ہے پر تیرے پاس کونسی تجارت ہے غرض تیرا تو کچھ بھی نہیں۔پھر آخر میں کہتا ہے اے میرے بھائی ! تیرے لئے دنیا میں کچھ نہیں۔اب تیرا کام یہ ہے کہ بیلچہ پکڑ اور میرے ساتھ مل، پھر ہم دونوں ایک خندق کھودیں اور خندق کھود کر اپنے مقتولوں کو اُس میں دفن کر دیں یہ ہماری خوشی کا وقت نہیں۔چونکہ شاعر کی غرض دنیا ہوتی ہے اس لئے وہ خندق کھود کر مر دوں کو دفن کر دیتا ہے۔پھر کہتا ہے اے بھائی! اب ہم نے اپنے مُردوں کو تو دفن کر لیا ہے اب آتا کہ ہم ایک اور خندق کھو دیں اور اس میں ہم اپنے آپ کو اور اپنے زندوں کو دفن کر لیں کیونکہ ہمارے لئے دنیا میں